اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ ہفتہ، 4 جولائی 2026
👁 43 ❤️ 0
گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ
یعنی بغیر یک دل بے مدعا نہ مانگ
آتا ہے داغ حسرت دل کا شمار یاد
مجھ سے مرے گنہ کا حساب اے خدا نہ مانگ
اے آرزو شہید وفا خوں بہا نہ مانگ
جز بہر دست و بازوئے قاتل دعا نہ مانگ
برہم ہے بزم غنچہ بہ یک جنبش نشاط
کاشانہ بسکہ تنگ ہے غافل ہوا نہ مانگ
میں دور گرد عرض رسوم نیاز ہوں
دشمن سمجھ ولے نگۂ آشنا نہ مانگ
گستاخیٔ وصال ہے مشاطۂ نیاز
یعنی دعا بجز خم زلف دوتا نہ مانگ
عیسیٰ طلسم حسن تغافل ہے زینہار
جز پشت چشم نسخہ عرض دوا نہ مانگ
نظارہ دیگر و دل خونیں نفس دگر
آئینہ دیکھ جوہر برگ حنا نہ مانگ
یک بخت اوج نذر سبک باری اسدؔ
سر پر وبال سایۂ بال ہما نہ مانگ
📖 خلاصہ

مرزا غالبؔ کی غزل "گر تجھ کو ہے یقین اجابت دعا نہ مانگ" یقین، دعا، عشق، خودداری، تقدیر اور روحانی آزادی کا فلسفیانہ اظہار ہے۔ شاعر انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر خدا پر کامل یقین ہو تو دعا…

📚 ادبی جائزہ

مرزا غالبؔ کی یہ غزل اردو شاعری کے ان شاہکاروں میں شامل ہے جن میں عشق، عرفان، فلسفہ، تصوف اور انسانی نفسیات ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتے ہیں کہ ش…

🖋️ تنقیدی جائزہ

تنقیدی نقطۂ نظر سے یہ غزل غالبؔ کے فکری ارتقا کی نمائندہ غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں شاعر محض حسن و عشق کی داستان نہیں سناتا بلکہ انسانی وجود، دعا، ت…

← پچھلا اگلا →

✍️ مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ — مختصر تعارف

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ
📍 آگرہ، ہندوستان

مرزا غالب کی سوانح حیات
مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ان عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر، تخیل، فلسفے اور اسلوبِ بیان سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا شمار ان چند ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا۔ غالبؔ نے انسانی نفسیات، عشق، کائنات، تقدیر، وجود، عقل اور جذبات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ان کی شاعری ہر دور ک …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ کی مزید
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے تکلف بر طرف ہے جاں ست...
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟ کہتے ہیں جب رہی نہ مج...
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں غالبؔ م...
دیوانِ غالب اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے شاعری کے معیار، فکری گہرائی اور زبان و بیا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن