موبائل بابا، ایک جدید خاکہ
ہمارے محلے میں ایک صاحب رہتے ہیں جنہیں سب لوگ محبت سے “موبائل بابا” کہتے ہیں۔ ان کا اصل نام تو شاید بشیر احمد ہے، مگر اب یہ نام صرف سرکاری کاغذوں تک محدود رہ گیا ہے۔ عوامی دنیا میں ان کی پہچان صرف موبائل بابا کی حیثیت سے ہے۔ وجہ اس لقب کی یہ ہے کہ ان کی زندگی کا مرکز و محور موبائل فون ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے موبائل ان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ وہ خود موبائل کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔
موبائل بابا کی عمر تقریباً پچپن برس ہوگی۔ درمیانہ قد، ہلکی سی توند، ماتھے پر چند پریشان بال اور ناک پر ہر وقت لڑھکتا ہوا چشمہ۔ لباس میں سادگی ضرور ہے مگر جیب میں دو موبائل فون لازمی ہوتے ہیں۔ ایک کان سے لگا ہوتا ہے اور دوسرے کی گھنٹی جیب میں بج رہی ہوتی ہے۔ ان کی انگلیاں اس سرعت سے اسکرین پر چلتی ہیں جیسے کوئی ماہر طبلہ نواز اپنی انگلیوں سے تال پیدا کر رہا ہو۔
اگر آپ ان سے کوئی ضروری بات کرنے جائیں تو پہلے پانچ منٹ وہ “بس ایک منٹ” کہتے گزارتے ہیں۔ اس ایک منٹ کی مدت کبھی کبھی آدھے گھنٹے تک جا پہنچتی ہے۔ گفتگو کے دوران اچانک ہنسنے لگتے ہیں، پھر یکایک سنجیدہ ہو جاتے ہیں اور کبھی بے وجہ “جی بالکل صحیح فرمایا” کہہ کر سر ہلاتے ہیں۔ سامنے والا شخص حیران رہ جاتا ہے کہ آخر یہ گفتگو اس سے ہو رہی ہے یا موبائل کے کسی پوشیدہ فرد سے۔
موبائل بابا کو صبح کی سیر سے زیادہ دلچسپی “گڈ مارننگ” کے رنگ برنگے پیغامات بھیجنے میں ہے۔ فجر کے بعد ہی ان کی انگلیاں متحرک ہو جاتی ہیں۔ پھولوں، آبشاروں اور چائے کے کپ والی تصاویر کے ساتھ لمبے لمبے اقوال ارسال کرتے رہتے ہیں۔ محلے کے اکثر لوگ ان کے پیغامات خاموشی سے حذف کر دیتے ہیں، مگر بابا کا جوش کم نہیں ہوتا۔
انہیں ہر خبر سب سے پہلے معلوم ہوتی ہے، چاہے وہ سچی ہو یا جھوٹی۔ کسی دن اعلان کرتے ہیں کہ کل شدید بارش آئے گی، اور اگلے دن سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا ہوتا ہے۔ کبھی کسی مشہور شخصیت کے انتقال کی خبر پھیلاتے ہیں اور چند گھنٹے بعد معلوم ہوتا ہے کہ صاحب بخیریت زندہ ہیں۔ مگر موبائل بابا نہ کبھی شرمندہ ہوتے ہیں اور نہ اپنی عادت ترک کرتے ہیں۔ فوراً کہتے ہیں: “بھئی، مجھے تو واٹس ایپ پر یہی آیا تھا!”
کھانے کی میز پر بھی ان کی توجہ سالن سے زیادہ اسکرین پر ہوتی ہے۔ چائے ٹھنڈی ہو جائے، روٹی سخت ہو جائے مگر موبائل بابا کی مصروفیت کم نہیں ہوتی۔ گھر والے اکثر شکایت کرتے ہیں کہ وہ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی سب سے دور ہیں۔
تاہم ان کی شخصیت کا ایک روشن پہلو بھی ہے۔ اگر کسی کو اسپتال کا نمبر چاہیے، کسی طالب علم کو فارم بھرنا ہو یا کسی مزدور کو آن لائن پیمنٹ کرنی ہو تو موبائل بابا فوراً مدد کے لیے حاضر ہو جاتے ہیں۔ محلے کے بزرگ جنہیں اسمارٹ فون استعمال کرنا نہیں آتا، ان کے لیے موبائل بابا کسی ٹیکنالوجی ماہر سے کم نہیں۔
موبائل بابا دراصل ہمارے عہد کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جو کیفیت ہم سب میں تھوڑی تھوڑی موجود ہے، وہ ان میں کچھ زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔ ان کا خاکہ پڑھتے ہوئے انسان ہنستا بھی ہے اور سوچتا بھی ہے کہ کہیں ہم خود بھی رفتہ رفتہ “موبائل بابا” بنتے تو نہیں جا رہے
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!