اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ابوالحسن یمین الدین خسروؔ جمعرات، 2 جولائی 2026
👁 72 ❤️ 1
ڈھلتے ہوئے سورج کی ضیا دیکھ رہے ہیں
صدیوں سے بھی انجام وفا دیکھ رہے ہیں
بدلی ہوئی گلشن کی ہوا دیکھ رہے ہیں
پھولوں میں بھی کانٹوں کی ادا دیکھ رہے ہیں
راہوں میں بھٹک جاتے ہیں کس طرح مسافر
منزل پہ کھڑے راہنما دیکھ رہے ہیں
تاریخ کے چہرے سے نئے دور کے ہاتھوں
مٹتی ہوئی تحریر وفا دیکھ رہے ہیں
لگتا ہے کہ بستی میں کوئی بات ہوئی ہے
ہر شخص کو مصروف دعا دیکھ رہے ہیں
اچھا ہے برس جائے اگر دل کی زباں پر
ہم دوش پہ زلفوں کی گھٹا دیکھ رہے ہیں
گلیوں میں مدینے کی ابھی دیکھنے والے
سرکار کے نقش کف پا دیکھ رہے ہیں
احساس کے ٹوٹے ہوئے آئینے میں خسروؔ
جلتی ہوئی ہم اپنی چتا دیکھ رہے ہیں
📖 خلاصہ

اس کلام میں شاعر نے وقت کی گردش، بدلتے سماجی رویّوں، وفا کی کم ہوتی قدروں اور انسانی اضطراب کو شعری انداز میں بیان کیا ہے۔ مختلف اشعار میں سورج، گلشن، منزل، تاریخ، دعا، مدینہ اور آئینہ جیسی علامتیں اس…

📚 ادبی جائزہ

یہ کلام امیر خسرو کی طرف منسوب شعری روایت کے اس اسلوب کی نمائندگی کرتا ہے جس میں داخلی احساس، علامتی اظہار اور روحانی کیفیت ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائ…

🖋️ تنقیدی جائزہ

تنقیدی اعتبار سے یہ کلام علامتی اظہار اور فکری رجحان کا حامل ہے۔ شاعر ہر شعر میں کسی نہ کسی سطح پر زمانے، احساس اور انسانی رویّوں پر تبصرہ کرتا دکھائی…

← پچھلا اگلا →

✍️ ابوالحسن یمین الدین خسروؔ — مختصر تعارف

ابوالحسن یمین الدین خسروؔ
📍 پٹیالی (موجودہ اتر پردیش، بھارت)

امیر خسرو کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)

🟢 تعارف
امیر خسرو برصغیر کے عظیم شاعر، صوفی، موسیقار اور ادیب تھے۔ ان کا پورا نام:
ابوالحسن یمین الدین خسرو تھا۔
وہ فارسی اور ہندوی (قدیم اردو) دونوں زبانوں میں مہارت رکھتے تھے اور انہیں “طوطیٔ ہند” کہا جاتا ہے۔

📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 1253ء
📍 مقام: پٹیالی (موجودہ اتر پردیش، بھارت)
والد: امیر سیف الدین محمود (ترک نژاد)
والدہ: ہن …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ابوالحسن یمین الدین خسروؔ کی مزید
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم بہ ہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم پری پیکر نگارے ...
چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نیناں ملائیکے بات اگم کہہ دینی رے موسے نیناں ملائیکے پریم بھٹی کا مدھو...
کاہے کو بیاہی بدیس کاہے کو بیاہی بدیسرے لکھی بابل مورے کاہے کو بیاہی بدیس بھائیوں کو دیے محلے دو ...
ڈھلتے ہوئے سورج کی ضیا دیکھ رہے ہیں صدیوں سے بھی انجام وفا دیکھ رہے ہیں بدلی ہوئی گلشن کی ہوا دی...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن