اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نوحہ
ا
اصغرؔ عابدی جنیری بدھ، 24 جون 2026
👁 20 ❤️ 1
ردیف ایسی ملی ہے بزم میں نایاب پانی میں
کھپانے لگ گئے سر مل کے سب احباب پانی میں
نگاہِ لطف اک ڈالے اگر ارباب پانی میں
بنے ہیرے کہیں موتی کہیں سیماب پانی میں
نصیری دم بخود ہوکر گرا مولا کے قدموں پر
بتائے جب علی نے ماہی کے انساب پانی میں
سوالِ بیعتِ فاسق ابھر کر پھر نہیں آیا
اسے شبیر نے یوں کردیا غرقاب پانی میں
قدم آکر علی کے لال نے ساحل پہ جب رکھا
نظر آنے لگی تب صورتِ مہتاب پانی میں
ہٹا اک پل بھی نہ تشنہ دہن کے ضبط کا پہرہ
یوں قابو میں رکھے عباس نے اعصاب پانی میں
کھڑی تھی تشنگی تو مطمئن آکر سر ساحل
مگر دریا نظر آیا عجب بیتاب پانی میں
نظر عباس کی تشنہ لبی سے وہ ملا پائے
کہاں ہے تاب دریا میں کہاں ہے تاب پانی میں
جلالِ حضرتِ عباس کو اس نے اٹھایا ہے
یوں ہی آتے نہیں ہیں دن بدن سیلاب پانی میں
زبانِ خشک جب اصغر نے پھیری خشک ہونٹوں پر
ستمگر کانپ اٹھے آیا وہ گرداب پانی میں
📖 خلاصہ

یہ نظم کربلا کے روحانی و تاریخی پس منظر میں حضرت عباسؑ، امام حسینؑ اور اہلِ بیتؑ کی قربانیوں اور عظمت کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے پانی کے استعارے کو مرکزی علامت بنا کر وفا، تشنگی اور حق کی فتح کو فنی اند…

← پچھلا اگلا →
اصغرؔ عابدی جنیری کی مزید
فرقت سہے گا کیسے مری، ڈر ہے کربلا چھ ماہ کا فقط مرا اصغر ہے کربلا ام رباب کہتی تھی رکھنا سنبھال ...
ردیف ایسی ملی ہے بزم میں نایاب پانی میں کھپانے لگ گئے سر مل کے سب احباب پانی میں نگاہِ لطف اک ڈا...
ردیف ایسی ملی ہے بزم میں نایاب پانی میں کھپانے لگ گئے سر مل کے سب احباب پانی میں نگاہِ لطف اک ڈا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن