نظم
دانش فراق
ہفتہ، 20 جون 2026
👁 6
❤️ 0
یہ جو شام اترتی ہے
تو گلیوں، کوچوں، دیواروں پر
اک دھیمی دھیمی اداسی کی چادر پھیل جاتی ہے۔
میں اپنے دل کے ویرانے میں
تیری یاد کے چراغ جلاتا ہوں،
اور سوچتا ہوں
کہ محبت بھی کیسی عجیب شے ہے؛
نہ وصل میں پوری ہوتی ہے،
نہ ہجر میں ختم ہوتی ہے۔
یہ کسی قدیم محراب پر لکھی
دعا کی مانند ہے،
جو صدیوں بعد بھی
اپنی تاثیر نہیں کھوتی۔
کبھی کسی خاموش رات میں
چاند جب آسمان کے بیچ ٹھہر جائے،
اور ستارے
اپنی روشنی کے جام انڈیلنے لگیں،
تو یوں محسوس ہوتا ہے
جیسے کائنات کی تمام خوب صورتی
ایک نام میں سمٹ آئی ہو،
اور وہ نام
تیرا ہو۔
تب دل کی ویران مسجد میں
اک نرم سی صدا گونجتی ہے،
محبت فنا نہیں ہوتی،
یہ تو روح کے چراغ میں
جلنے والی وہ لو ہے
جو عمر بھر
دھیمی دھیمی روشنی بکھیرتی رہتی ہے۔
ادبی جائزہ
یہ نظم جدید اردو نظم کی اس روایت سے وابستہ دکھائی دیتی ہے جس میں خارجی منظر نگاری کو داخلی احساسات کے اظہار کا وسیلہ بنایا جاتا ہے۔ شاعر نے شام، گلیوں، چاند اور خاموشی جیسے عناصر کو محض منظر کے طور پر نہیں بلکہ جذباتی اور معنوی علامتوں کے طور پر استعمال کیا ہے۔ نظم کی زبان نرم، رواں اور تصویری ہے۔
تنقیدی جائزہ
فنی اعتبار سے نظم میں علامتی اظہار نمایاں ہے۔ شاعر محبت کو جسمانی یا وقتی تعلق سے بلند کرکے روحانی تجربے کی سطح پر لے جاتا ہے۔ آخری حصے میں ’’دل کی ویران مسجد‘‘ اور ’’روح کے چراغ‘‘ کی تراکیب نظم کے فکری مرکز کو واضح کرتی ہیں۔ کہیں کہیں جذباتی شدت معنی پر غالب آتی محسوس ہوتی ہے، لیکن مجموعی طور پر نظم اپنی جمالیاتی فضا برقرار رکھتی ہے۔
📖 خلاصہ
یہ نظم شام کی اداس فضا، تنہائی اور یاد کے وسیلے سے محبت کے ابدی مفہوم کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کے نزدیک محبت نہ وصال میں مکمل ہوتی ہے اور نہ جدائی میں ختم؛ بلکہ یہ روح میں روشن رہنے والی ایک دائمی کیفیت …
#سید دانش نقوی
#نظم
#محبت
#ہجر
#یاد
#روح
#شام
#اردو ادب
#جدید نظم
#رومانویت
#ادبی تنقید
#احساس
#شاعری
#روحانی کیفیت
✍️ سید دانش نقوی — مختصر تعارف
📍 ڈسکہ
شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
دانش فراق کی مزید
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں
تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں
جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ...
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا
آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا
دل گرفتہ فضا رہی ہے آج
...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی
عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی
نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زم...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!