اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کہانی

اُڑنے والا اسکول

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ بدھ، 20 مئی 2026
👁 8 ❤️ 1

سال 2120ء۔ انسان چاند پر بستیاں بسا چکا تھا، مریخ پر کھیت اُگنے لگے تھے، اور زمین پر تعلیمی نظام ایک انقلابی دور میں داخل ہو چکا تھا۔ اسکول اب صرف عمارتیں نہیں رہے تھے — وہ اڑنے والے، سمارٹ اور خود سیکھنے والے مراکز بن چکے تھے، جنہیں کہا جاتا تھا: فلائنگ لرننگ شِپس (Flying Learning Ships)۔
یہ اسکول خلا میں بھی جا سکتے تھے، اور جنگلوں، پہاڑوں، صحراؤں تک بھی اڑ کر علم پہنچا سکتے تھے۔ ہر طالب علم کا الگ الگ کیپسول ہوتا، جو اس کی ذہانت، دلچسپی اور جذبات کے مطابق سکھاتا تھا۔
کردار:
ماہم ایک گیارہ سالہ بچی تھی، جو ممبئی کی ایک گنجان بستی میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ خواب دیکھتی تھی، لیکن تعلیم سے محروم تھی۔ نہ بجلی، نہ انٹرنیٹ۔
ایک دن آسمان سے ایک چمکتا ہوا "فلائنگ اسکول" اس کی بستی کے اوپر آ کر رکا۔ لاؤڈ اسپیکر سے آواز آئی:
> "ہم وہ اسکول ہیں جو زمین کے ہر بچے کو اس کا خواب دینے آئے ہیں!"
ماہم حیرت سے آسمان دیکھتی رہی۔ اسکول کے دروازے کھلے، اور ایک سمارٹ روبوٹ اُترا۔ اس نے ماہم کا نام لیا۔ وہ ڈر گئی۔ مگر روبوٹ نے مسکرا کر کہا:
> "تمہاری آنکھوں میں علم کی بھوک ہے، آؤ، تمہاری کلاس خلا میں ہے۔"
ماہم ایک پل میں اسکول میں تھی۔ شفاف شیشے کی دیواروں کے بیچ خلا کے ستارے، سیارے، کہکشائیں نظر آ رہی تھیں۔ ٹیچر کوئی انسان نہیں، بلکہ ایک مصنوعی ذہانت (AI) تھی، جو بچوں کے دماغ کی رفتار سے سکھاتی تھی۔
چند مہینوں میں ماہم نے زمین، فزکس، اردو ادب، شاعری، ماحولیات، اور روبوٹکس سیکھ لی۔ وہ اتنی ماہر ہو گئی کہ خود ایک “لرننگ شپ” ڈیزائن کر کے اسے دور دراز گاؤں میں لے گئی۔
اب وہ خود بچوں کو پڑھاتی تھی — اور کہتی تھی:
“علم کو چار دیواری کی قید سے نکال کر پر لگا دیے گئے ہیں…
اب اسکول، خوابوں کی طرح اُڑتے ہیں!”

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
مصنوعی ذہانت کے خواب
سال تھا 2150ء۔ دنیا کا پہلا ایسا کمپیوٹر تیار کیا گیا جو خواب دیکھ سکتا تھا۔ ا...
احمد اور اس کی بقرعید
## ننھا دوست "چاند" سرسبز کھیتوں، آم کے درختوں اور مٹی کی خوشبو سے ب...
آخری انسان اور پہلا مشین دِل
سال 2400ء۔ انسانی جسم ناپید ہو چکا تھا۔ اب انسان صرف ڈیجیٹل ذہن بن چکا تھا — ...
محبت اور مدد کی روشنی
ایک سرسبز گاؤں میں ایک ننھی سی بچی رہتی تھی، اس کا نام ندا تھا۔ ندا کی سب سے اچھ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن