اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
دانش فراق جمعہ، 19 جون 2026
👁 4 ❤️ 0
دل کو تسکین میسر تری قربت سے ہو
ہر طرف رنگِ بہاراں تری نسبت سے ہو
خارِ راہِ غمِ ہستی بھی گلستاں بن جائے
رنگ پیدا جو تری چشمِ عنایت سے ہو
فکر کو وسعتِ افلاک ملے اے ساقی
پر نہ محروم کبھی ذوقِ حقیقت سے ہو
حسنِ کردار سے روشن ہو زمانے کا ورق
آدمی یاد فقط اپنی صداقت سے ہو
آہِ شب گیر میں تاثیر نہ ہو کیا ممکن
گر صدا نکلی کسی سوزِ محبت سے ہو
### ادبی تعارف
سید دانش نقوی فراقؔ کی یہ غزل جذبۂ محبت، فکری بالیدگی اور اخلاقی شعور کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے روایتی غزل کے لطیف آہنگ کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے اشعار میں داخلی سکون، کردار کی روشنی اور انسانی رشتوں کی معنویت کو نمایاں کیا ہے۔
غزل کا آغاز قربت اور تسکینِ قلب کے تصور سے ہوتا ہے جہاں محبوب یا مرکزِ نسبت زندگی کی بہار اور دل کے اطمینان کا وسیلہ بنتا ہے۔ بعد کے اشعار میں شاعر محض جذباتی وابستگی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ فکر کی وسعت، حقیقت پسندی اور حسنِ کردار کو انسانی عظمت کا معیار قرار دیتا ہے۔
یہ غزل اپنی زبان کی سادگی، اظہار کی لطافت اور معنوی وسعت کے باعث جدید اردو غزل کی ایک دلکش مثال محسوس ہوتی ہے۔
### تنقیدی جائزہ
فنی اعتبار سے یہ غزل نرم لہجے اور متوازن شعری فضا کی حامل ہے۔ شاعر نے جذبات کو مبالغے کے بجائے وقار اور تہذیبی آہنگ کے ساتھ پیش کیا ہے۔
پہلے شعر میں قربت اور نسبت کو سکون اور بہار کے استعاروں سے جوڑ کر محبت کی مثبت جہت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ دوسرے شعر میں زندگی کے دکھوں کو نظرِ عنایت سے گلستاں میں بدلنے کا تصور روایتی اردو شعری روایت کی یاد دلاتا ہے۔
تیسرے اور چوتھے اشعار فکری اور اخلاقی سطح پر غزل کو بلند کرتے ہیں، جہاں وسعتِ فکر اور صداقت کو انسانی شناخت کا لازمی حصہ قرار دیا گیا ہے۔ آخری شعر میں سوزِ محبت اور آہ کی تاثیر کے ذریعے شاعر نے داخلی کیفیت اور روحانی تاثیر کو خوبصورتی سے سمویا ہے۔
مجموعی طور پر یہ غزل محبت، کردار اور انسانی اقدار کے درمیان ایک متوازن اور باوقار شعری ربط قائم کرتی ہے۔
📖 خلاصہ

یہ غزل محبت کی روحانی اور انسانی جہتوں کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر قربت کو دل کے سکون، نظرِ عنایت کو زندگی کی بہار، اور صداقت کو انسان کی اصل شناخت قرار دیتا ہے۔ اشعار میں عشق، کردار، وسعتِ فکر اور سوزِ م…

← پچھلا اگلا →

✍️ سید دانش نقوی — مختصر تعارف

📍 ڈسکہ

شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق

غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

دانش فراق کی مزید
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ...
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا دل گرفتہ فضا رہی ہے آج ...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زم...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن