ڈرامہ آخری سیٹی حصہ سوم (آخری باب)
ڈراما نگار: علیم طاہر
منظر:
بابا جان کا پرانا کمرہ۔ آمنہ، سلمان اور ہانیہ ایک چراغ کی روشنی میں بیٹھے ہیں۔ انور ایک پرانی جلد بند ڈائری کھول کر پڑھنے لگتا ہے۔
انور (پہلا ورق کھولتے ہوئے)
"17 مارچ، 1984 — آج ایک مسافر میرے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ اس کا بیٹا شہر کی کسی گاڑی میں چھوٹ گیا تھا۔ میں نے اپنا وقت روک دیا... اور اس کے لیے گاڑی رکوائی۔ زندگی میں پہلی بار اصول توڑا، لیکن دل کی آواز پر عمل کیا۔ اُس دن جانا... وقت کبھی صرف گھڑی کا پابند نہیں ہوتا، دل کا بھی ہوتا ہے۔"
آمنہ (نم آنکھوں سے)
یہ تو اُن دنوں کی بات ہے جب وہ صرف ایک کلرک تھے...
ہانیہ (دھیرے سے)
تو بابا نانا ہر دن اپنے دل کی ڈائری میں لکھتے رہے...
سلمان (دوسرا صفحہ پڑھتے ہوئے)
"5 اپریل، 1992 — میری بیٹی نے آج پہلی بار 'گاڑی' کا مطلب پوچھا۔ میں نے کہا، گاڑی وہی ہے جو تمہیں وقت پر تمہارے خوابوں تک پہنچا دے۔ اور میں... میں صرف ایک گارڈ نہیں ہوں، میں خوابوں کا نگراں ہوں۔"
آمنہ (مسکرا کر)
یہ صفحہ میرے لیے ہے۔
ہانیہ (ایک اور صفحہ کھول کر پڑھتی ہے)
"12 اگست، 2008 — میری پوتی ہانیہ نے پہلی بار سیٹی بجائی۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ میں نے اُس لمحے سوچا، یہ بچی میرے بعد بھی میری آواز بنے گی۔‘‘
ہانیہ (روتے ہوئے)
بابا نانا... میں واقعی آپ کی سیٹی بنوں گی۔
انور (آخری ورق کھولتے ہوئے)
"میری ریٹائرمنٹ کا دن — میں نے زندگی کی آخری گاڑی کو الوداع کہا۔ پر میری اصل ٹرین تو ابھی چلی نہیں... میری یادیں، میری باتیں، میری گھڑی، میری سیٹی... سب میرے بعد بھی سفر کریں گی۔ اگر کوئی ان کو سن لے، سمجھ لے، تو میں مر کر بھی زندہ رہوں گا۔"
منظر بدلتا ہے
ایک چھوٹا مقامی ریلوے میوزیم۔ دیوار پر بابا جان کی تصویر آویزاں ہے۔ نیچے اُن کی وردی، گھڑی اور سیٹی شیشے کے شوکیس میں رکھی ہے۔
ہانیہ (وزیٹرز کے سامنے خطاب کرتی ہے)
"میرے نانا جی وقت کے غلام نہیں، وقت کے استاد تھے۔ اُن کی زندگی نے ہمیں یہ سکھایا کہ وقت کو صرف ناپا نہیں جاتا... محسوس بھی کیا جاتا ہے۔ آج ان کی سیٹی، ان کی گھڑی، ان کا وقت... ہم سب کی امانت ہے۔"
آخری منظر: شام ڈھل رہی ہے۔ ریلوے پٹری کے ساتھ ہانیہ کھڑی ہے۔ ایک چھوٹی بچی ہاتھ میں سیٹی لیے اُس کی طرف دیکھ رہی ہے۔
بچی: "آپ نے یہ سیٹی بجائی تھی نا؟"
ہانیہ (نرمی سے ہنستے ہوئے)
"نہیں بیٹا... یہ سیٹی دراصل کسی اور کی ہے، جو اب بھی ہمیں وقت پر جگاتا ہے۔"
وہ سیٹی بچی کو تھما دیتی ہے۔
بچی سیٹی بجاتی ہے۔ دور کہیں سے ریل گاڑی کی آواز آتی ہے۔
بابا جان کی آواز (آخری بار پس منظر میں):
"سیٹی بجاؤ... وقت آ گیا ہے۔"
پَردہ گرتا ہے۔



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!