اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
ڈرامہ

ڈرامہ آخری سیٹی حصہ سوم (آخری باب)

علیم طاہرؔ
علیم طاہرؔ بدھ، 20 مئی 2026
👁 62 ❤️ 1

ڈراما نگار: علیم طاہر

منظر:
بابا جان کا پرانا کمرہ۔ آمنہ، سلمان اور ہانیہ ایک چراغ کی روشنی میں بیٹھے ہیں۔ انور ایک پرانی جلد بند ڈائری کھول کر پڑھنے لگتا ہے۔
انور (پہلا ورق کھولتے ہوئے)
"17 مارچ، 1984 — آج ایک مسافر میرے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ اس کا بیٹا شہر کی کسی گاڑی میں چھوٹ گیا تھا۔ میں نے اپنا وقت روک دیا... اور اس کے لیے گاڑی رکوائی۔ زندگی میں پہلی بار اصول توڑا، لیکن دل کی آواز پر عمل کیا۔ اُس دن جانا... وقت کبھی صرف گھڑی کا پابند نہیں ہوتا، دل کا بھی ہوتا ہے۔"
آمنہ (نم آنکھوں سے)
یہ تو اُن دنوں کی بات ہے جب وہ صرف ایک کلرک تھے...
ہانیہ (دھیرے سے)
تو بابا نانا ہر دن اپنے دل کی ڈائری میں لکھتے رہے...
سلمان (دوسرا صفحہ پڑھتے ہوئے)
"5 اپریل، 1992 — میری بیٹی نے آج پہلی بار 'گاڑی' کا مطلب پوچھا۔ میں نے کہا، گاڑی وہی ہے جو تمہیں وقت پر تمہارے خوابوں تک پہنچا دے۔ اور میں... میں صرف ایک گارڈ نہیں ہوں، میں خوابوں کا نگراں ہوں۔"
آمنہ (مسکرا کر)
یہ صفحہ میرے لیے ہے۔
ہانیہ (ایک اور صفحہ کھول کر پڑھتی ہے)
"12 اگست، 2008 — میری پوتی ہانیہ نے پہلی بار سیٹی بجائی۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ میں نے اُس لمحے سوچا، یہ بچی میرے بعد بھی میری آواز بنے گی۔‘‘
ہانیہ (روتے ہوئے)
بابا نانا... میں واقعی آپ کی سیٹی بنوں گی۔
انور (آخری ورق کھولتے ہوئے)
"میری ریٹائرمنٹ کا دن — میں نے زندگی کی آخری گاڑی کو الوداع کہا۔ پر میری اصل ٹرین تو ابھی چلی نہیں... میری یادیں، میری باتیں، میری گھڑی، میری سیٹی... سب میرے بعد بھی سفر کریں گی۔ اگر کوئی ان کو سن لے، سمجھ لے، تو میں مر کر بھی زندہ رہوں گا۔"
منظر بدلتا ہے
ایک چھوٹا مقامی ریلوے میوزیم۔ دیوار پر بابا جان کی تصویر آویزاں ہے۔ نیچے اُن کی وردی، گھڑی اور سیٹی شیشے کے شوکیس میں رکھی ہے۔
ہانیہ (وزیٹرز کے سامنے خطاب کرتی ہے)
"میرے نانا جی وقت کے غلام نہیں، وقت کے استاد تھے۔ اُن کی زندگی نے ہمیں یہ سکھایا کہ وقت کو صرف ناپا نہیں جاتا... محسوس بھی کیا جاتا ہے۔ آج ان کی سیٹی، ان کی گھڑی، ان کا وقت... ہم سب کی امانت ہے۔"
آخری منظر: شام ڈھل رہی ہے۔ ریلوے پٹری کے ساتھ ہانیہ کھڑی ہے۔ ایک چھوٹی بچی ہاتھ میں سیٹی لیے اُس کی طرف دیکھ رہی ہے۔
بچی: "آپ نے یہ سیٹی بجائی تھی نا؟"
ہانیہ (نرمی سے ہنستے ہوئے)
"نہیں بیٹا... یہ سیٹی دراصل کسی اور کی ہے، جو اب بھی ہمیں وقت پر جگاتا ہے۔"
وہ سیٹی بچی کو تھما دیتی ہے۔
بچی سیٹی بجاتی ہے۔ دور کہیں سے ریل گاڑی کی آواز آتی ہے۔
بابا جان کی آواز (آخری بار پس منظر میں):
"سیٹی بجاؤ... وقت آ گیا ہے۔"

پَردہ گرتا ہے۔

علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔ بیٹے نے پوچھا: "اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔ بیٹے نے کہا: "اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔ ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
اسٹیج ڈرامہ , ’’آخری سکہ‘‘ علیم طاہر
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ تحریر (رائٹر) : علیم طاہر کردار: رفیق – مرکزی کردار، ع...
اسٹرگلرس اڈا
اوپننگ میوزک – نرم سا بولی ووڈ طرز کا انسٹرومنٹل، جو خوابوں کے شہر کی جھلک دے ...
اسٹیج ڈرامہ:" بارش کی خوشبو" علیم طاہر
تحریر: علیم طاہر اقسام: یک بابی اسٹیج ڈرامہ دورانیہ: تقریباً 45 سے 60 منٹ ک...
ڈرامہ آخری سیٹی حصہ اول
ڈراما نگار: علیم طاہر کردار: بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ) سلمان (...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن