اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم ⭐ نمایاں
دانش فراق پیر، 15 جون 2026
👁 1,320 ❤️ 1
کربلا ایک ابدی صدا
‎کربلا میں
‎ہوا معمول کے مطابق چل رہی تھی،
‎سورج بھی
‎اپنی روز کی مسافت پر تھا،
‎اور ریت
‎ویسی ہی خاموش تھی
‎جیسی صدیوں سے رہی تھی۔
‎مگر اُس دن
‎زمین کے سینے پر
‎ایک ایسا فیصلہ لکھا جا رہا تھا
‎جس کی بازگشت
‎زمانوں کے کانوں میں اترنی تھی۔
‎امامِ حسینؑ بمعہ اہل و عیال
‎کسی سلطنت کے حصول میں نہیں تھے،
‎وہ انسان کی روح کو
‎غلام ہونے سے بچانے نکلے تھے۔
‎وہ انبیاء کی انتھک محنت
‎کو پار لگانے
‎دین اسلام کی سر بلندی
‎کے لیے دشت نینوا
‎میں آن پہنچے
‎پیاس بڑھی،
‎مصیبتیں بڑھیں،
‎شہادتیں بڑھتی گئیں،
‎مگر سچائی کا قد
‎کم نہ ہوا۔
‎حتیٰ کہ جب
‎شامِ غریباں نے
‎اپنی اداس چادر پھیلائی،
‎تب بھی شکست
‎حسینؑ کے خیموں میں داخل نہ ہو سکی۔
‎کیونکہ بعض اوقات
‎فتح تلوار سے نہیں،
‎اصول سے ہوتی ہے۔
‎اور بعض اوقات
‎زندہ رہنے والے نہیں،
‎شہید ہونے والے
‎تاریخ کا رخ بدلتے ہیں۔
‎کربلا
‎ایک واقعہ نہیں،
‎انسانی ضمیر میں
‎ہمیشہ جلتا رہنے والا
‎وہ چراغ ہے
‎جو ہر دور کے اندھیرے سے پوچھتا ہے:
‎تم کتنی دیر تعصبات کا شکار رہو گے
‎تم کتنی دیر فرقہ واریت پھیلاؤ گے
‎تم کتنی دیر حق و سچ سے منہ موڑتے رہو گے
‎سچ ابھی زندہ ہے۔
‎ایک دن اپنی سوچ کی تیرگی سے نکل کر
‎راہ روشن کی طرف لپک جاؤ
‎کشتئی نوح پر سوار ہو جاؤ
‎کیوں کہ
‎کربلا ابھی زندہ ہے
‎حسین ابھی زندہ ہیں
‎دانش فراق
📖 خلاصہ

“کربلا ایک ابدی صدا” دانش فراق کی ایک فکر انگیز نثری نظم ہے جو واقعۂ کربلا کو محض تاریخی سانحہ نہیں بلکہ انسانی ضمیر، حق، آزادی، استقامت اور شعور کی دائمی آواز کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس نظم میں امامِ …

← پچھلا اگلا →

✍️ سید دانش نقوی — مختصر تعارف

📍 ڈسکہ

شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق

نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

دانش فراق کی مزید
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ...
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا دل گرفتہ فضا رہی ہے آج ...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زم...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن