اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
دانش فراق اتوار، 14 جون 2026
👁 53 ❤️ 1
رات کے آخری پہر
جب نیند اپنی شکست خوردہ چادر سمیٹنے لگتی ہے
اور تاریکی چراغوں کے حق میں خاموش دست برداری لکھتی ہے،
میں کھڑکی کے پاس کھڑا
سوچتا ہوں:
آخر انسان کیا ہے؟
ایک نام؟ ایک جسم؟ یا چند یادوں کا بکھرا ہوا سلسلہ؟
پھر مجھے محسوس ہوتا ہے
کہ ہم سب
کسی عظیم فراموشی کے کنارے کھڑے ہوئے لوگ ہیں،
اپنے اپنے چراغوں میں تھوڑی سی روشنی بچانے کی کوشش کرتے ہوئے۔
ہم گھر بناتے ہیں، کتابیں لکھتے ہیں، محبت کرتے ہیں، دعائیں مانگتے ہیں،
حالانکہ جانتے ہیں
کہ وقت
ایک بے رحم دریا کی طرح
ہر نقش، ہر آواز، ہر شناخت
اپنے ساتھ بہا لے جائے گا۔
مگر شاید
عظمتِ آدمیت یہی ہے
کہ فنا کے یقینی اندھیرے میں بھی
وہ امید کا ایک ننھا سا چراغ
بجھنے نہیں دیتا۔
اور یہی چراغ
کبھی کسی نظم میں، کبھی کسی آنکھ میں، کبھی کسی خاموش دعا میں
صدیوں تک جلتا رہتا ہے۔
📖 خلاصہ

"فراموشی کے کنارے" انسان کی عارضی حیثیت اور وقت کی بے ثباتی پر مبنی ایک فکری نظم ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ اگرچہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے، لیکن انسان کی امید، محبت اور تخلیقی قوت اسے ایک خاص عظمت …

← پچھلا اگلا →

✍️ سید دانش نقوی — مختصر تعارف

📍 ڈسکہ

شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق

نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

دانش فراق کی مزید
نقشِ امید دلِ زار سے جاتا ہی نہیں تیرا چرچا مرے افکار سے جاتا ہی نہیں جس کو چاہا تھا وہی دور کھڑا ...
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
اک دھواں سا مرے دل کے مکاں سے اٹھا آپ پہلو سے اٹھے اور جی جہاں سے اٹھا دل گرفتہ فضا رہی ہے آج ...
دل کے صحرا میں عجب گردِ سفر باقی رہی عمر گزری بھی تو اک راہ گزر باقی رہی نقش مٹتے ہی گئے لوحِ زم...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن