رسیا
دو بین کرتی آنکھیں
دو بے چین ہوتی آنکھیں
اپنی غربت کا
تماشہ بننے ہر
ہوس زدہ لوگوں کی
دزدیدہ نگاہوں سے خوفزدہ
جب چھم چھم آنسو بہا رہی تھیں
اور
اپنا آپ چھپا رہی تھیں
تو دیکھنے والوں کی اکثریت
ان دل چیرتے آنسوؤں کے برعکس
ان روتی ہوئی پیاری آنکھوں کی
" رسیا "
نکلی
یہ مختصر مگر نہایت اثر انگیز نظم ایک غریب اور بے بس لڑکی (یا عورت) کی آنکھوں کے ذریعے معاشرے کی سفاکی کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس کی آنکھیں غربت، خوف اور بے بسی کے آنسو بہا رہی ہیں، وہ خود کو چھپانے کی کوش…
✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف
ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …
مزید پڑھیں ←



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!