اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
مضمون

بشیر بدر, ایک عہد کا اختتام، ایک یادگار رفاقت کی داستان

بشیر بدر, ایک عہد کا اختتام، ایک یادگار رفاقت کی داستان
علیم طاہر
علیم طاہر جمعہ، 29 مئی 2026
👁 131 ❤️ 2

بشیر بدر: ایک عہد کا اختتام، ایک یادگار رفاقت کی داستان

___________________________
مضمون نگار: علیم طاہر
__________________________

اردو شاعری کی دنیا آج سوگوار ہے

محبت، درد، تہذیب اور نرم لہجے کے عظیم شاعر ڈاکٹر بشیر بدر اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ ان کے انتقال کے ساتھ اردو غزل کا ایک روشن باب بند ہوگیا، مگر ان کی شاعری، ان کی شگفتگی، ان کا لہجہ اور ان کی انسان دوستی ہمیشہ زندہ رہے گی۔
بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں تھے، وہ ایک احساس تھے۔ ان کے اشعار عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گئے تھے۔
“کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا”
اور:
“اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے”
جیسے اشعار نے انہیں عوام و خواص دونوں کے دلوں میں امر کردیا۔
میں، علیم طاہر، آج جب یہ سطور لکھ رہا ہوں تو صرف ایک عظیم شاعر کی وفات پر افسردہ نہیں ہوں بلکہ ایک ایسے شفیق بزرگ، ایک مہربان دوست اور یادگار محفلوں کے ساتھی کو یاد کررہا ہوں جن کے ساتھ میری اور میرے والد محترم ارشد مینا نگری صاحب کی کئی دہائیوں پر محیط رفاقت رہی۔
ارشد مینا نگری صاحب اور بشیر بدر کے درمیان تعلق صرف ادبی نہ تھا بلکہ بے حد دوستانہ اور قلبی تھا۔ ہندوستان کے کئی بڑے مشاعروں میں ہم ایک ساتھ شریک ہوئے۔ جبلپور کے آل انڈیا مشاعرے کی وہ تاریخی رات آج بھی ذہن میں روشن ہے جہاں بشیر بدر صاحب کی موجودگی میں محفل لوٹ لی گئی تھی۔ سامعین رات گئے تک داد دیتے رہے اور ہر شعر پر محفل جھوم اٹھتی تھی۔
ساگر، جو بھوپال کے آگے واقع ہے، وہاں ہونے والا عظیم الشان مشاعرہ بھی یادوں میں محفوظ ہے۔ اس یادگار محفل میں ارشد مینا نگری، انجم جبل پوری، بشیر بدر، علیم طاہر اور دیگر کئی ممتاز شعراء شریک تھے جبکہ نظامت کے فرائض عقیل عظمت انجام دے رہے تھے۔ وہ صرف ایک مشاعرہ نہیں بلکہ اردو تہذیب اور شعری روایت کا جشن محسوس ہوتا تھا۔
مالیگاؤں کے مشاعروں میں بھی کئی مرتبہ ہمیں بشیر بدر صاحب کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر کلام سنانے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہ ہمیشہ شفقت سے پیش آتے، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ہر شاعر کو محبت و احترام دیتے تھے۔ میرے ساتھ ان کا تعلق ایک بزرگ اور محبت کرنے والے استاد جیسا تھا۔ ان کی گفتگو میں خلوص، لہجے میں مٹھاس اور شخصیت میں عجیب سی کشش تھی۔
میرے لیے یہ اعزاز بھی ہمیشہ باعثِ فخر رہے گا کہ ڈاکٹر بشیر بدر صاحب نے میری پہلی کتاب "دنیا مسافر راستے" پر اپنے نایاب اور دلنشیں تاثرات قلمبند فرمائے تھے، جو آج محض ایک دیباچہ نہیں بلکہ ایک ادبی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے الفاظ میرے ادبی سفر کا سرمایہ ہیں۔ اسی طرح میرے والد محترم ارشد مینا نگری صاحب کی متعدد کتابوں پر بھی بشیر بدر صاحب نے اپنے مقالات، تاثرات اور قیمتی آراء تحریر فرمائیں، جو آج ان کتابوں میں محفوظ ہیں اور ہماری ادبی رفاقت اور قلبی تعلق کا زندہ ثبوت ہیں۔
یہ تعلق صرف مشاعروں تک محدود نہیں تھا بلکہ ادب، محبت، احترام اور فکری وابستگی کا ایک خوبصورت رشتہ تھا، جسے وقت کبھی فراموش نہیں کرسکے گا۔
بشیر بدر کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ مشکل لفظوں کے شاعر نہیں تھے بلکہ دل کی زبان بولتے تھے۔ ان کی غزلوں میں محبت بھی تھی، تنہائی بھی، زندگی کا کرب بھی اور انسانیت کی خوشبو بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار صرف ادبی حلقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ عام انسان کے حافظے اور گفتگو کا حصہ بن گئے۔
زندگی میں بے شمار آزمائشوں کے باوجود ان کے لہجے میں تلخی نہیں آئی۔ میرٹھ فسادات میں ان کا گھر جل گیا، برسوں کی محنت خاک ہوگئی، مگر انہوں نے نفرت کے بجائے محبت کا چراغ روشن رکھا۔ یہی ان کی اصل عظمت تھی۔
آج جب اردو ادب ان کی جدائی پر اشکبار ہے تو مجھے وہ تمام مشاعرے، وہ سفر، وہ قہقہے، وہ ادبی نشستیں یاد آرہی ہیں جہاں بشیر بدر موجود ہوتے تھے تو محفل میں ایک روشنی سی پھیل جاتی تھی۔ وہ صرف غزل کے شاعر نہیں تھے بلکہ محفلوں کی جان تھے۔
بشیر بدر چلے گئے، مگر ان کی شاعری ہمیشہ زندہ رہے گی۔
وہ جہاں بھی ہوں گے، یقیناً لفظوں کی کسی خوبصورت جنت میں ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر بشیر بدر صاحب کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور اردو ادب کو ان کا نعم البدل نصیب کرے۔

📖 خلاصہ

**خلاصہ:** ڈاکٹر بشیر بدر کی وفات اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اس مضمون میں معروف شاعر بشیر بدر کی ادبی خدمات، ان کی لازوال شاعری، مشاعروں کی یادگار محفلوں اور مضمون نگار علیم طاہر و ا…

✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں

علیم طاہر _شاعر و ادیب

علیم طاہر کی مزید تحریریں
شادی، محبت اور قانون: بدلتے رشتوں کا المیہ | جدید معاشرے میں ازدواجی تعلقات کا بحران
شادی، محبت اور قانون: بدلتے رشتوں کا المیہ مضمون نگار: علیم طاہر _____________...
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب ### ایک ایسا شاعر جس کے...
لوریاں: ادبِ اطفال کا نایاب باب | بچوں کی تربیت، ماں کی ممتا اور اردو لوک ادب
## لوریاں، ادب اطفال کا نایاب باب لوری گائی جانے والی صنف سخ...
(تبصرہ ) "میری بستی میرے لوگ " وکیل نجیب کا خاکہ نمامضامین کا منفرد مجموعہ
## "میری بستی میرے لوگ " وکیل نجیب کا " وکیل نجیب &quo...
مزید متعلقہ نثر
لوریاں: ادبِ اطفال کا نایاب باب | بچوں کی تربیت، ماں کی ممتا اور اردو لوک ادب
## لوریاں، ادب اطفال کا نایاب باب لوری گائی جانے والی صنف سخ...
شجر کاری کی اہمیت، ضرورت، فوائد اور درخت لگانے کا مکمل طریقہ | جامع اردو مضمون
## شجر کاری — سرسبز مستقبل کی ضمانت ### تمہید قدرت نے زمین کو انسان کے لیے ا...
ایٹا: تہذیب، روایت اور عصری شعور کی ایک دل نشیں جہت
## ایٹا: تہذیب، روایت اور عصری شعور کی ایک دل نشیں جہت ### تمہید اردو ادب اپنی...
خبردار! کوئی دیکھ رہا ہے
پچھلے دنوں ہمارے شہر میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کے نتیجے میں بد امنی پھیلنے...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن