نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 11
❤️ 0
اجالا جب ہوا رخصت جبين شب کي افشاں کا
نسيم زندگي پيغام لائي صبح خنداں کا
جگايا بلبل رنگيں نوا کو آشيانے ميں
کنارے کھيت کے شانہ ہلايا اس نے دہقاں کا
طلسم ظلمت شب سورہء والنور سے توڑا
اندھيرے ميں اڑايا تاج زر شمع شبستاں کا
پڑھا خوابيدگان دير پر افسون بيداري
برہمن کو ديا پيغام خورشيد درخشاں کا
ہوئي بام حرم پر آ کے يوں گويا مؤذن سے
نہيں کھٹکا ترے دل ميں نمود مہر تاباں کا؟
پکاري اس طرح ديوار گلشن پر کھڑے ہو کر
چٹک او غنچہ گل! تو مؤذن ہے گلستاں کا
ديا يہ حکم صحرا ميں چلو اے قافلے والو!
چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرہ بياباں کا
سوئے گور غريباں جب گئي زندوں کي بستي سے
تو يوں بولي نظارا ديکھ کر شہر خموشاں کا
ابھي آرام سے ليٹے رہو ، ميں پھر بھي آئوں گي
سلادوں گي جہاں کو خواب سے تم کو جگائوں گي
📖 خلاصہ
اس نظم میں صبح کو امید، بیداری اور عملی جدوجہد کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!