محبت اور مدد کی روشنی
ایک سرسبز گاؤں میں ایک ننھی سی بچی رہتی تھی، اس کا نام ندا تھا۔ ندا کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ وہ ہر کسی کے لیے اپنے دل میں محبت رکھتی تھی۔ اگر کسی کا دل اداس ہوتا تو ندا اسے ہنسا دیتی، اور اگر کوئی مشکل میں ہوتا تو فوراً مدد کے لیے پہنچ جاتی۔
ایک دن گاؤں میں بہت تیز بارش ہوئی۔ بارش اتنی زیادہ تھی کہ راستوں میں پانی بھر گیا۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں بند ہو گئے۔ اسی دوران ندا نے کھڑکی سے دیکھا کہ ایک بوڑھی دادی اماں لکڑی کے سہارے پانی میں چلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ندا فوراً چھتری لے کر باہر نکلی۔ اس نے دادی اماں کا ہاتھ پکڑا اور آہستہ آہستہ انہیں ان کے گھر تک پہنچا دیا۔ دادی اماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔
انہوں نے پیار سے کہا:
“بیٹی! تم نے آج میرا دل جیت لیا۔”
ندا مسکرا کر بولی:
“دادی اماں! اگر ہم ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں تو کوئی راستہ مشکل نہیں رہتا۔”
اگلے دن پورے گاؤں میں ندا کی اچھائی کی باتیں ہونے لگیں۔ مگر ندا کو اپنی تعریف سن کر غرور نہیں آیا۔ وہ پہلے کی طرح خاموشی سے سب کی مدد کرتی رہی۔
کچھ دن بعد گاؤں کے استاد نے بچوں سے پوچھا:
“سب سے مضبوط انسان کون ہوتا ہے؟”
بچے مختلف جواب دینے لگے، مگر استاد نے مسکرا کر کہا:
“سب سے مضبوط وہ ہوتا ہے جس کا دل دوسروں کے لیے دھڑکتا ہو، بالکل ندا کی طرح۔ ”اس دن سے گاؤں کے بچے بھی ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے، اور پورا گاؤں پہلے سے زیادہ خوش رہنے لگا۔
سبق:
اچھے اخلاق اور دوسروں کی مدد انسان کو سب کے دلوں میں جگہ دلا دیتی ہے۔
یہ ایک خوبصورت اور سبق آموز بچوں کی کہانی ہے جس میں ننھی ندا اپنی محبت، اچھے اخلاق اور مددگار دل سے پورے گاؤں کے دل جیت لیتی ہے۔ ایک بار شدید بارش میں وہ ایک بوڑھی دادی اماں کی مدد کرتی ہے، جس سے سب ک…


