نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 11
❤️ 0
صبح خورشيد درخشاں کو جو ديکھا ميں نے
بزم معمورہ ہستي سے يہ پوچھا ميں نے
پر تو مہر کے دم سے ہے اجالا تيرا
سيم سيال ہے پاني ترے دريائوں کا
مہر نے نور کا زيور تجھے پہنايا ہے
تيري محفل کو اسي شمع نے چمکايا ہے
گل و گلزار ترے خلد کي تصويريں ہيں
يہ سبھي سورہء 'والشمس' کي تفسيريں ہيں
سرخ پوشاک ہے پھولوں کي ، درختوں کي ہري
تيري محفل ميں کوئي سبز ، کوئي لال پري
ہے ترے خيمہء گردوں کي طلائي جھالر
بدلياں لال سي آتي ہيں افق پر جو نظر
کيا بھلي لگتي ہے آنکھوں کو شفق کي لالي
مے گلرنگ خم شام ميں تو نے ڈالي
رتبہ تيرا ہے بڑا ، شان بڑي ہے تيري
پردہ نور ميں مستور ہے ہر شے تيري
صبح اک گيت سراپا ہے تري سطوت کا
زير خورشيد نشاں تک بھي نہيں ظلمت کا
ميں بھي آباد ہوں اس نور کي بستي ميں مگر
جل گيا پھر مري تقدير کا اختر کيونکر؟
نور سے دور ہوں ظلمت ميں گرفتار ہوں ميں
کيوں سيہ روز ، سيہ بخت ، سيہ کار ہوں ميں؟
ميں يہ کہتا تھا کہ آواز کہيں سے آئي
بام گردوں سے وہ يا صحن زميں سے آئي
ہے ترے نور سے وابستہ مري بود و نبود
باغباں ہے تري ہستي پے گلزار وجود
انجمن حسن کي ہے تو ، تري تصوير ہوں ميں
عشق کا تو ہے صحيفہ ، تري تفسير ہوں ميں
ميرے بگڑے ہوئے کاموں کو بنايا تو نے
بار جو مجھ سے نہ اٹھا وہ اٹھايا تو نے
نور خورشيد کي محتاج ہے ہستي ميري
اور بے منت خورشيد چمک ہے تري
ہو نہ خورشيد تو ويراں ہو گلستاں ميرا
منزل عيش کي جا نام ہو زنداں ميرا
آہ اے راز عياں کے نہ سمجھے والے!
حلقہ ، دام تمنا ميں الجھنے والے
ہائے غفلت کہ تري آنکھ ہے پابند مجاز
ناز زيبا تھا تجھے ، تو ہے مگر گرم نياز
تو اگر اپني حقيقت سے خبردار رہے
نہ سيہ روز رہے پھر نہ سيہ کار رہے
📖 خلاصہ
یہ نظم انسان کی عظمت، اس کے مقام اور قدرت کے نظام میں اس کی حیثیت کو اجاگر کرتی ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!