وقت کا تاجر
دنیا کے ایک خاموش شہر میں، جہاں وقت رُک رُک کر چلتا تھا، ایک عجیب سی دکان کھلی —
"وقت کی دکان"
دکان کا بورڈ پر لکھا تھا:
"یہاں وقت بیچا اور خریدا جاتا ہے – قیمت: صرف ایک یاد"
دکاندار کا نام کوئی نہیں جانتا تھا، مگر سب اُسے "وقت کا تاجر" کہتے تھے۔
بوڑھا، خاموش، سیاہ آنکھوں والا، جس کی داڑھی میں وقت کی گرد چھپی ہوتی۔
پہلا گاہک:
ایک نوجوان شاعر آیا، جو کہتا تھا:
"مجھے ماضی کے ایک لمحے میں واپس جانا ہے — جب اُس نے مسکرا کر میری نظم سنی تھی۔"
تاجر نے پوچھا:
"تم کیا دو گے؟"
شاعر بولا:
"میری آئندہ سب نظمیں، جو اب تک نہیں لکھی گئیں۔"
سودا طے پایا۔
شاعر ایک لمحے کے لیے واپس گیا —
لیکن جب لوٹا، وہ خاموش تھا۔ اس کے لفظ گم ہو چکے تھے۔
دوسرا گاہک:
ایک ارب پتی تاجر آیا:
"مجھے ایک گھنٹہ اور چاہیے، تاکہ میں اپنی زندگی کی آخری ڈیل مکمل کر سکوں!"
تاجر مسکرایا:
"کیا دو گے؟"
"میری جوانی کی سب یادیں!"
گھنٹہ مل گیا۔ ڈیل بھی کامیاب ہوئی۔
مگر جب وہ شخص آئینہ دیکھنے گیا —
اسے اپنا چہرہ یاد نہ آیا۔
آخری گاہک:
ایک چھوٹا بچہ آیا۔
"میرے پاس کچھ نہیں، پر امی بیمار ہیں۔ کیا آپ ان کے ساتھ ایک دن کا وقت دے سکتے ہیں؟"
وقت کے تاجر نے کچھ لمحے آنکھیں بند کیں، پھر کہا:
"تم نے جو سوال کیا، وہی تمہاری قیمت ہے۔ لے جاؤ — ایک دن، صرف محبت کے نام پر۔"
یہ پہلا سودا تھا جو بغیر قیمت کے طے پایا۔
اختتام:
ایک دن دکان بند ہو گئی۔
صرف بورڈ رہ گیا، جس پر اب نئی تحریر چمک رہی تھی:
"وقت خریدنا ممکن ہے — مگر بیچنا ہمیشہ خسارے کا سودا ہے۔
اگر کسی کو وقت دینا ہے… تو محبت سے دیجیے، سودا نہ بنائیے۔"
سبق:
ہم وقت کے مسافر ہیں، مگر اگر ہم تاجر بن جائیں، تو وقت ہم سے انتقام لے سکتا ہے۔
وقت صرف ایک چیز سے قیمتی بنتا ہے — یادوں، محبتوں اور خلوص سے۔



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!