اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کربلا نامہ

کربلا – تیسرا دن مکمل | بعض سفر تقدیر کے صفحوں پر لکھے جاتے ہیں | سلسلہ 3

کربلا – تیسرا دن مکمل | بعض سفر تقدیر کے صفحوں پر لکھے جاتے ہیں | سلسلہ 3
منتظم عاصیؔ
منتظم عاصیؔ جمعرات، 18 جون 2026
👁 320 ❤️ 2

کربلا — تیسرا دن 3 محرم 1448ھ جب سفر کے ساتھ انتظار بھی چلنے لگا
سفر جاری تھا۔
دن بدل گئے تھے۔
مگر راستہ اب بھی باقی تھا۔
آسمان ویسا ہی تھا جیسے پہلے دن تھا۔
ہوا ویسی ہی تھی۔
زمین بھی خاموش تھی۔
مگر انسان ایک جیسا نہیں رہتا۔
دو دن پہلے جو قدم صرف سفر کے لیے اٹھے تھے اب اُن میں مقصد کی سنجیدگی اور وقت کا وزن شامل ہونے لگا تھا۔
سفر کی ابتدا میں انسان اپنے فیصلے کو دیکھتا ہے۔
کچھ دن بعد وہ اپنے فیصلے کے نتائج کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔
اور پھر ایک وقت آتا ہے—
جہاں انسان نتائج کو چھوڑ کر صرف راستے سے وفادار رہ جاتا ہے۔
شاید تیسرے دن کی کیفیت کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔
اب پیچھے رہ جانے والی چیزیں یاد تو آتی ہیں—
لیکن انسان جانتا ہے کہ اُن کی طرف لوٹنا اب پہلے جیسا نہیں ہوگا۔
قافلہ آگے بڑھ رہا تھا۔
کبھی ریت نرم ہوتی۔
کبھی زمین سخت۔
کبھی ہوا ساتھ دیتی۔
کبھی چہرے پر آ کر ٹھہر جاتی۔
مگر سفر رکا نہیں۔
کیونکہ کچھ سفر منزل کی آسانی سے نہیں—
ارادے کی مضبوطی سے طے ہوتے ہیں۔
دن کے بیچ میں ایک عجیب کیفیت اترتی ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے وقت کچھ کہنا چاہتا ہو۔
مگر ابھی نہیں۔
جیسے کوئی خبر راستے میں ہو۔
جیسے کوئی موڑ ابھی آنا باقی ہو۔
انسان بعض اوقات مستقبل کو نہیں جانتا—
لیکن اُس کی آہٹ محسوس کر لیتا ہے۔
یہ وہ لمحہ تھا۔
ابھی کوئی منظر بدل نہیں رہا تھا۔
ابھی کوئی اعلان نہیں ہوا تھا۔
ابھی کوئی آخری مرحلہ نہیں آیا تھا۔
لیکن خاموشی بدل رہی تھی۔
اور خاموشی جب بدلنے لگے—
تو سمجھ لینا چاہیے کہ وقت اپنا اگلا باب کھولنے والا ہے۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
قدم اُٹھتے رہے۔
گرد اڑتی رہی۔
اور آسمان خاموش کھڑا دیکھتا رہا۔
شاید اُسے معلوم تھا—
یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔
اصل داستان ابھی باقی ہے۔ بعض راستے انسان کو اُس کے اپنے اندر لے جاتے ہیں
تیسرا دن شروع ہو چکا تھا۔
سورج پھر اُسی طرح طلوع ہوا۔
زمین پھر اُسی طرح روشن ہوئی۔
ہوا پھر ویسے ہی چلی۔
لیکن انسان کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔
سفر بدل دیتا ہے۔
اور کچھ سفر صرف منزل نہیں بدلتے—
انسان کے اندر کے پیمانے بدل دیتے ہیں۔
اب قافلے میں خاموشی پہلے جیسی نہیں رہی تھی۔
پہلے دن کی خاموشی رخصتی کی تھی۔
دوسرے دن کی خاموشی انتظار کی۔
اور اب تیسرے دن کی خاموشی—
سوچ کی تھی۔
راستہ طویل تھا۔
اور طویل راستے انسان کو اپنے قریب لے آتے ہیں۔
انسان بہت دیر دوسروں کے ساتھ چل سکتا ہے—
لیکن ایک وقت آتا ہے جب اُسے اپنے دل کے ساتھ بھی چلنا پڑتا ہے۔
شاید یہی سفر کا اصل امتحان ہوتا ہے۔
کچھ لوگ منزل دیکھ کر چلتے ہیں۔
اور کچھ لوگ مقصد دیکھ کر۔
منزل قریب نہ ہو تو پہلے لوگ رک جاتے ہیں—
مگر مقصد والے چلتے رہتے ہیں۔
یہ بھی ایسا ہی سفر تھا۔
ابھی کسی نے آگے کے دن نہیں دیکھے تھے۔
ابھی کوئی نقش واضح نہیں تھا۔
مگر یہ احساس پیدا ہونے لگا تھا کہ یہ راستہ عام نہیں۔
اس راستے کے بعد شاید دنیا وہ نہیں رہے گی جو پہلے تھی۔
دن کے کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان اچانک خاموش ہو جاتا ہے۔
نہ اس لیے کہ اُس کے پاس الفاظ نہیں ہوتے—
بلکہ اس لیے کہ بعض باتیں دل کے اندر زیادہ صاف سنائی دیتی ہیں۔
سفر بھی شاید ایسا ہی ہوتا ہے۔
چلتے چلتے آدمی سمجھتا ہے—
کبھی منزل انسان نہیں چنتا۔
کبھی منزل انسان کو چن لیتی ہے۔
قافلہ آگے بڑھ رہا تھا۔
قدم اپنی ترتیب سے اٹھ رہے تھے۔
کسی کے چہرے پر بے صبری نہیں تھی۔
کوئی جلدی نہیں۔
کوئی اضطراب نہیں۔
بس ایک وقار۔
وہ وقار جو اُس شخص کے اندر پیدا ہوتا ہے جو اپنی سہولت نہیں، اپنا اصول ساتھ لے کر نکلا ہو۔
دن آگے بڑھتا رہا۔
اور وقت—
وہ خاموشی سے اپنے اگلے باب کے قریب آتا رہا۔ وقت اپنی رفتار سے چلتا ہے، مگر تاریخ اچانک بدل جاتی ہے
دن آدھا گزر چکا تھا۔
سورج اپنی پوری روشنی کے ساتھ آسمان پر تھا۔
زمین گرم تھی۔
افق دور تک پھیلا ہوا تھا۔
اور قافلہ اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔
ایسے سفر میں انسان وقت کو گھڑی سے نہیں ناپتا۔
وہ وقت کو سانسوں سے ناپتا ہے۔
ایک دن۔
پھر دوسرا۔
پھر تیسرا۔
اور آہستہ آہستہ سفر انسان کی عادت نہیں—
اُس کی کیفیت بن جاتا ہے۔
اب وہ لمحہ گزر چکا تھا جہاں ہر چیز نئی محسوس ہوتی ہے۔
اب راستہ وجود کا حصہ بننے لگا تھا۔
قافلے کے ساتھ چلتے ہوئے شاید یہ احساس بھی پیدا ہونے لگا تھا—
کہ آگے صرف منزل نہیں۔
امتحان بھی ہے۔
اور امتحان ہمیشہ اُس وقت نہیں آتا جب انسان تیار ہو۔
کبھی امتحان پہلے آ جاتا ہے—
اور تیاری بعد میں ہوتی ہے۔
یہ دن بھی شاید ویسا ہی تھا۔
ہر طرف سکون تھا۔
لیکن سکون ہمیشہ آسانی کی علامت نہیں ہوتا۔
کبھی سکون آنے والے وقت کی تمہید بھی ہوتا ہے۔
دن کے ایسے لمحے میں انسان بہت کچھ یاد کرتا ہے۔
جو چھوڑ آیا۔
جو ساتھ ہے۔
اور جو ابھی سامنے نہیں آیا۔
شاید انسان کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے—
کہ وہ نامعلوم راستے پر بھی چل سکتا ہے۔
قافلہ بھی چل رہا تھا۔
بچے بھی ساتھ تھے۔
ساتھی بھی۔
اور اُن سب کے درمیان ایک عجیب اطمینان تھا۔
ایسا نہیں کہ آگے سب معلوم تھا۔
بلکہ شاید اس لیے کہ ہر چیز معلوم ہونا ضروری نہیں تھا۔
کبھی صرف اتنا کافی ہوتا ہے—
کہ راستہ کیوں اختیار کیا گیا۔
اور جب مقصد واضح ہو—
تو فاصلے اپنا اثر کھو دیتے ہیں۔
سورج آہستہ آہستہ جھکنے لگا۔
ہوا کے رنگ بدلنے لگے۔
اور دن اپنے اختتام کی طرف بڑھنے لگا۔
مگر وقت—
وہ ابھی اپنی پوری بات نہیں کہہ رہا تھا۔
ابھی کئی پردے باقی تھے۔
ابھی کئی باب کھلنے تھے۔
اور سفر—
وہ ابھی صرف چل نہیں رہا تھا۔
وہ تاریخ میں اتر رہا تھا۔ جب شام راستے پر اترتی ہے تو دل زیادہ بولتا ہے
دن اب اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا۔
سورج کی روشنی میں وہ تیزی نہیں رہی تھی جو دوپہر میں زمین کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔
اب روشنی نرم ہونے لگی تھی۔
ریت کے ذرے بھی بدلتے ہوئے رنگوں کے ساتھ خاموش پڑے تھے۔
قافلہ ابھی چل رہا تھا۔
لیکن سفر کے کچھ حصے ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان قدموں سے کم اور احساس سے زیادہ سفر کرتا ہے۔
شام ہمیشہ عجیب ہوتی ہے۔
نہ مکمل رخصت۔
نہ مکمل آغاز۔
بس دونوں کے درمیان ایک خاموش پل۔
اور شاید بڑے سفر بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔
انسان پیچھے چھوڑے ہوئے وقت سے مکمل جدا نہیں ہوتا—
اور آگے آنے والے وقت تک مکمل پہنچتا بھی نہیں۔
تیسرے دن کی شام میں شاید یہی کیفیت تھی۔
اب سفر معمول بننے لگا تھا۔
راستے سے خوف نہیں رہا تھا۔
تھکن بھی شاید قبول ہو چکی تھی۔
لیکن قبول کر لینا آسان ہونا نہیں ہوتا۔
کچھ چیزیں انسان اٹھانا سیکھ لیتا ہے۔
قافلہ آہستہ آہستہ ایک اور دن کے اختتام کی طرف جا رہا تھا۔
کسی کے ہاتھ میں کل کی خبر نہیں تھی۔
کسی کے پاس آنے والے لمحوں کی تفصیل نہیں تھی۔
لیکن ایک چیز سب کے پاس تھی—
اعتماد۔
اور بعض اوقات یہی انسان کا سب سے بڑا سہارا ہوتا ہے۔
دن ڈھلنے کے وقت انسان اپنے اندر زیادہ دیکھتا ہے۔
شاید اس لیے کہ روشنی کم ہونے لگتی ہے۔
اور باہر کم نظر آنے لگتا ہے۔
ایسے میں آدمی اپنے دل کی طرف لوٹتا ہے۔
شاید اُس شام بھی ایسا ہی ہوا ہوگا۔
راستہ ابھی باقی تھا۔
دن ابھی باقی تھے۔
لیکن سفر اب صرف جسم کا سفر نہیں رہا تھا۔
یہ یقین کا سفر بننے لگا تھا۔
وہ یقین—
جو انسان کو منزل معلوم نہ ہونے کے باوجود آگے بڑھاتا ہے۔
سورج افق کے پیچھے اترنے لگا۔
آسمان پر شام کی تہہ جم گئی۔
ہوا میں خاموشی اتر آئی۔
اور تیسرے دن نے جیسے آہستہ سے کہا:
جو آنے والا ہے—
وہ صرف تاریخ نہیں ہوگا۔
وہ انسانوں کے دلوں میں بھی اترے گا۔ بعض سفر راستے پر نہیں، تقدیر کے صفحوں پر لکھے جاتے ہیں
رات اتر چکی تھی۔
دن بھر کا سفر اب خاموشی میں تبدیل ہو رہا تھا۔
ہوا پہلے سے ہلکی تھی۔
ریت ساکت تھی۔
اور آسمان—
وہ ہمیشہ کی طرح سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش تھا۔
تیسرا دن ختم ہونے لگا تھا۔
تین دن پہلے سفر شروع ہوا تھا۔
اور تین دن بعد بھی ظاہری طور پر بہت کچھ نہیں بدلا تھا۔
راستہ وہی۔
زمین وہی۔
سفر وہی۔
لیکن حقیقت میں بہت کچھ بدل چکا تھا۔
کیونکہ بعض تبدیلیاں آنکھ سے نظر نہیں آتیں—
وہ دل کے اندر واقع ہوتی ہیں۔
اب واپسی ایک خیال سے زیادہ کچھ نہیں رہی تھی۔
سفر اب صرف اختیار نہیں رہا—
ذمہ داری بننے لگا تھا۔
کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان ہر قدم پر منزل کے قریب نہیں جاتا—
بلکہ اپنے موقف کے قریب جاتا ہے۔
اور پھر ایک وقت آتا ہے—
جب انسان سمجھ لیتا ہے:
اصل سوال یہ نہیں کہ انجام کیا ہوگا۔
اصل سوال یہ ہے کہ راستہ کیوں اختیار کیا گیا۔
یہ تیسرا دن شاید یہی سکھا رہا تھا۔
کہ بڑے فیصلے شور سے نہیں جیتے جاتے۔
وہ صبر سے پورے کیے جاتے ہیں۔
رات کے وقت سفر میں ایک خاص کیفیت ہوتی ہے۔
دن کے مناظر ختم ہو جاتے ہیں۔
اور انسان اپنے اندر اترنے لگتا ہے۔
شاید ایسی راتوں میں آدمی اپنے فیصلے دوبارہ نہیں بدلتا—
بلکہ اُنہیں اور گہرا سمجھتا ہے۔
قافلہ آرام میں تھا۔
مگر سفر رکا نہیں تھا۔
کیونکہ کچھ سفر قدموں سے نہیں—
مقصد سے جاری رہتے ہیں۔
ابھی راستہ باقی تھا۔
ابھی کئی دن باقی تھے۔
ابھی بہت کچھ پردے میں تھا۔
لیکن وقت اپنی طرف سے اشارہ دے چکا تھا—
یہ سفر صرف ایک قافلے کا سفر نہیں۔
یہ آنے والی صدیوں کے شعور کا سفر ہے۔
تیسرا دن ختم ہوا۔
اور رات خاموشی سے گزر گئی۔
لیکن صبح—
صبح اپنے ساتھ صرف روشنی نہیں لانے والی تھی۔
وہ سوال بھی لائے گی۔
اور سوال ہمیشہ انسان کو بدل دیتے ہیں۔

📖 خلاصہ

تیسرے دن کی یہ تحریر سفر کے ظاہری مناظر سے آگے بڑھ کر اُس اندرونی تبدیلی کو بیان کرتی ہے جو مقصد کے ساتھ چلنے والوں کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ راستہ ابھی باقی ہے، منزل ابھی سامنے نہیں، لیکن سفر اب ایک مع…

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اپنی بات

محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …

مزید پڑھیں ←
منتظم عاصیؔ کی مزید تحریریں
کربلا – دسویں دن مکمل | کچھ دن ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
## کربلا — دسویں دن 10 محرم 1448ھ جب صبح صرف روشنی نہیں لاتی، تاریخ کا ایک با...
کربلا – نواں دن مکمل | کچھ راتیں انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
کربلا — نواں دن 9 محرم 1448ھ بعض دن سورج سے نہیں، دل کی دھڑکن سے پہچانے جاتے ...
کربلا – آٹھواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کو معنی دے دیتے ہیں
## کربلا — آٹھواں دن 8 محرم 1448ھ کبھی امتحان سامنے آنے سے پہلے دل اُس کی جگہ...
نشہ — انسانیت کا زوال | نشے کے سماجی، نفسیاتی اور انسانی اثرات پر طویل تحقیقی اردو مضمون
## نشہ — انسانیت کا زوال ### باب اوّل جب انسان اپنے آپ سے دور ہونے لگتا ہے ...
مزید متعلقہ نثر
کربلا – پانچواں دن مکمل | بعض دن انسان کے اندر رہ جاتے ہیں | سلسلہ نمبر5
کربلا — پانچواں دن 5 محرم 1448ھ جب راستہ بدلتا نہیں مگر احساس بدلنے لگتا ہے ص...
کربلا – چھٹا دن مکمل | کچھ سفر انسان کو اپنے آپ کے قریب لے آتے ہیں | سلسلہ نمبر6
کربلا — چھٹا دن 6 محرم 1448ھ جب خاموشی کے اندر آنے والے وقت کی چاپ سنائی دینے ل...
کربلا – دوسرا دن مکمل | راستے ختم نہیں ہوئے تھے، مگر واپسی پیچھے رہ گئی تھی | سلسلہ 2
## کربلا — دوسرا دن 2 محرم 1448ھ راستہ لمبا تھا مگر خاموشی اُس سے بھی لمبی قاف...
کربلا – آٹھواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کو معنی دے دیتے ہیں
## کربلا — آٹھواں دن 8 محرم 1448ھ کبھی امتحان سامنے آنے سے پہلے دل اُس کی جگہ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن