اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 7 ❤️ 0
اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے تو
شيرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو
باعث ہے تو وجود و عدم کي نمود کا
ہے سبز تيرے دم سے چمن ہست و بود کا
قائم يہ عنصروں کا تماشا تجھي سے ہے
ہر شے ميں زندگي کا تقاضا تجھي سے ہے ہر شے کو تيري جلوہ گري سے ثبات ہے
تيرا يہ سوز و ساز سراپا حيات ہے
وہ آفتاب جس سے زمانے ميں نور ہے
دل ہے ، خرد ہے ، روح رواں ہے ، شعور ہے
اے آفتاب ، ہم کو ضيائے شعور دے
چشم خرد کو اپني تجلي سے نور دے
ہے محفل وجود کا ساماں طراز تو
يزدان ساکنان نشيب و فراز تو
تيرا کمال ہستي ہر جاندار ميں
تيري نمود سلسلہ کوہسار ميں
ہر چيز کي حيات کا پروردگار تو
زائيدگان نور کا ہے تاجدار تو
نے ابتدا کوئي نہ کوئي انتہا تري
آزاد قيد اول و آخر ضيا تري
📖 خلاصہ

نظم میں آفتاب کو حیات، توانائی اور بیداری کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن