اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 12 ❤️ 0
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پيار کيوں
يہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کيوں
سيماب وار رکھتي ہے تيري ادا اسے
آداب عشق تو نے سکھائے ہيں کيا اسے؟
کرتا ہے يہ طواف تري جلوہ گاہ کا
پھونکا ہوا ہے کيا تري برق نگاہ کا؟
آزار موت ميں اسے آرام جاں ہے کيا؟
شعلے ميں تيرے زندگي جاوداں ہے کيا؟
غم خانہ جہاں ميں جو تيري ضيا نہ ہو
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو
گرنا ترے حضور ميں اس کي نماز ہے
ننھے سے دل ميں لذت سوز و گداز ہے
کچھ اس ميں جوش عاشق حسن قديم ہے
چھوٹا سا طور تو يہ ذرا سا کليم ہے
پروانہ ، اور ذوق تماشائے روشني
کيڑا ذرا سا ، اور تمنائے روشني!
📖 خلاصہ

اس نظم میں شمع اور پروانے کے کرداروں کے ذریعے عشق، ایثار اور خود سپردگی کے تصورات کو پیش کیا گیا ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن