یادداشتوں کا بازار
سال 2450ء۔
دنیا کے بڑے شہروں میں اب ایک نیا بازار قائم ہو چکا تھا —
جسے کہتے تھے: "مارکیٹ آف میموریز"
یعنی یادداشتوں کا بازار۔
یہاں لوگ اپنی یادیں بیچتے تھے،
خوشی، غم، عشق، بچپن، جدائی، موت، خواب —
سب ڈیجیٹل شکل میں محفوظ ہو چکے تھے۔
بس آپ سر پر ایک میموری اسکینر لگاتے،
اور یادداشت — USB کی طرح — نکال لی جاتی۔
کہانی کی ہیروئن:
زویہ راوت — ایک ماہر ذہنی سائنس دان،
جو خود اپنی سب یادیں بیچ چکی تھی۔
اب وہ صرف مشینوں کی طرح جیتی تھی۔
نہ ماضی، نہ درد، نہ خوشی۔
سب کچھ "ڈیلیٹ"۔
ایک دن بازار میں ایک بچہ آیا،
جس کی عمر 10 سال تھی،
اس نے کہا:
“مجھے اپنی ماں کی یاد واپس خریدنی ہے،
کسی نے ان کی مسکراہٹ خرید لی ہے۔”
زویہ کو جھٹکا لگا۔
یہ پہلا لمحہ تھا جب اس نے سوچا:
"کیا یادیں صرف ڈیٹا ہیں؟"
یا
"یادیں وہ آئینہ ہیں جن میں ہم اپنا اصل چہرہ دیکھتے ہیں؟"
ممنوعہ اسٹال:
زویہ ایک دن "یادداشتوں کے سیاہ بازار" میں گئی،
جہاں ممنوع یادیں رکھی جاتی تھیں —
جنہیں بیچنا قانوناً جرم تھا۔
وہاں ایک یاد رکھی تھی:
"پہلا لمس، جو ماں نے دیا تھا — زندگی کے آغاز پر"
زویہ نے وہ یاد خریدی — اور جیسے ہی چِپ سر میں لگائی،
ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ وہ فرش پر گر گئی۔
جب آنکھ کھلی،
وہ خود کو بچپن میں محسوس کر رہی تھی —
اپنے کمرے میں، اپنے گڑیا کے ساتھ،
اور ماں کی آواز:
> “زویہ، میری گڑیا کہاں ہے؟”
وہ رو پڑی —
پہلی بار، برسوں بعد۔
فیصلہ:
زویہ نے بازار بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
لیکن حکومت نے کہا:
"یادداشتیں ذاتی نہیں رہیں —
یہ اب عالمی منڈی کا سرمایہ ہیں۔"
زویہ نے اعلان کیا:
“جس دن یادیں بیچی گئیں،
اس دن انسانیت رہن رکھ دی گئی۔”
اس نے اپنی ایجاد — "ریورس اسکینر" — پوری دنیا میں مفت بانٹ دی،
جس سے لوگ اپنی بیچی گئی یادیں واپس حاصل کر سکتے تھے۔
دنیا ایک بار پھر یاد رکھنے والی نسل بننے لگی۔
آخری جملہ:
"یادیں اگر فروخت ہو جائیں،
تو انسان صرف جسم بچتا ہے —
روح کہیں بازار کی الماری میں بند ہو جاتی ہے…"



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!