نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 8
❤️ 0
آتا ہے ياد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کي بہاريں وہ سب کا چہچہانا
آزادياں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کي
اپني خوشي سے آنا اپني خوشي سے جانا
لگتي ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے ياد جس دم
شبنم کے آنسوئوں پر کليوں کا مسکرانا
وہ پياري پياري صورت ، وہ کامني سي مورت
آباد جس کے دم سے تھا ميرا آشيانا
آتي نہيں صدائيں اس کي مرے قفس ميں
ہوتي مري رہائي اے کاش ميرے بس ميں!
کيا بد نصيب ہوں ميں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھي تو ہيں وطن ميں ، ميں قيد ميں پڑا ہوں
آئي بہار کلياں پھولوں کي ہنس رہي ہيں
ميں اس اندھيرے گھر ميں قسمت کو رو رہا ہوں
اس قيد کا الہي! دکھڑا کسے سنائوں
ڈر ہے يہيں قفسں ميں ميں غم سے مر نہ جائوں
جب سے چمن چھٹا ہے ، يہ حال ہو گيا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے
دکھے ہوئے دلوں کي فرياد يہ صدا ہے
آزاد مجھ کو کر دے ، او قيد کرنے والے!
ميں بے زباں ہوں قيدي ، تو چھوڑ کر دعا لے
📖 خلاصہ
نظم ایک قید پرندے کی زبان سے آزادی کی خواہش اور غلامی کی اذیت کو بیان کرتی ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!