اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
مغان مالیگانوی اتوار، 7 جون 2026
👁 35 ❤️ 1
زحالِ مسکیں مکن تغافل دُرائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں نہ لے ہو کاہے لگائے چھتیاں
شبانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چوں عمرِ کوتاہ
سکھی! پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم ببردِ تسکیں
کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں
چوں شمعِ سوزاں، چوں ذرہ حیراں، ہمیشہ گریاں، بہ عشق آں ما
نہ نیند نیناں، نہ انگ چیناں، نہ آپ آویں، نہ بھیجیں پتیاں
بحقّ ِروزِ وصالِ دلبر کہ دادِ ما را غریب خسروؔ
سپیت من کے ورائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کی کھتیاں
شاعر: طوطیٔ ہند امیر خسرو
انتخاب: مغاں مالیگانوی
حوالہ: دیوانِ خسرو
📖 خلاصہ

یہ غزل عاشق کے دردِ ہجر اور محبوب کی بے رخی کا مرقع ہے۔ شاعر محبوب سے شکوہ کرتا ہے کہ وہ اس کی بے بسی اور محبت کو نظرانداز نہ کرے۔ ہجر کی راتیں طویل اور وصال کے دن مختصر محسوس ہوتے ہیں۔ عاشق ہر لمحہ م…

← پچھلا اگلا →

✍️ مغان مالیگانوی — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

دور عصر کے خاموش گمنام شاعر مغان مالیگانوی

غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

مغان مالیگانوی کی مزید
کاش معلوم ہو گیا ہوتا خود کو صیاد ہونے دیتے ہم تجھ کو پانے کی آرزو رکھتے دل نہ برباد ہونے د...
صلّ اللہُ علیٰ محمد صلّ اللہُ علیہ وسلم سارے ملائک اور خدا جھومتی گاتی بادِ صبا پڑھتی ہے جنت شا...
دستورِ بزلِ جود و سخا اختیار کر — غزل، تشریح، تبصرہ اور پیغام ✨ تعارف یہ غزل ایک نہایت بامعنی او...
زبان محض لفظوں کا مجموعہ نہیں، یہ دلوں کے درمیان ایک روشن پُل ہے۔ ماں کی لوری سے لے کر دعا کے آخری...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن