اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عارف عاصوی بدھ، 3 جون 2026
👁 117 ❤️ 3
ہم سے مجنون دل لٹا کر کے
بے وفا ہوگئے وفا کر کے
کتنے معصوم ہیں مرے اپنے
خود خفا ہوگئے دغا کر کے
درد دل ساتھ تھا تو زندہ تھے
مر گئے عشق کی دوا کر کے
اپنے بچوں کے واسطے مائیں
روٹیاں رکھتی ہیں چھپا کر کے
چھوڑ کر جاں کو دور جانے کا
ہوں پریشان فیصلہ کر کے
پا لیا میں نے اپنے مولا کو
دوشمنوں کے لیے دعا کر کے
تو کبھی اپنے آپ کو عارف
دیکھ لیتا انا ہٹا کر کے
📖 خلاصہ

ہم سے مجنون دل لٹا کر کے بے وفا ہوگئے وفا کر کے — محبت، بے وفائی، دردِ دل، ماں کی عظمت، دعا اور خود احتسابی کے جذبات سے بھرپور عارف کی خوبصورت غزل، دل کو چھو لینے والے اشعار کے ساتھ۔ یہ غزل محبت، بے …

← پچھلا اگلا →
عارف عاصوی کی مزید
علی ایک چھوٹا لڑکا تھا۔ ایک دن اسے راستے میں سو روپے ملے۔ وہ چاہتا تو ان پیسوں سے کھلونے خرید لیتا...
ایک چیونٹی ہر روز دانہ اٹھا کر اپنے گھر لے جاتی تھی۔ ایک ٹڈا اسے دیکھ کر ہنستا اور کہتا، “اتنی محن...
ایک بچہ روز ایک درخت کو پتھر مارتا تھا۔ ایک دن سخت گرمی میں وہ بہت تھک گیا۔ اسی درخت کے نیچے بیٹھ ...
احمد ہمیشہ اپنا کام ادھورا چھوڑ دیتا تھا۔ اس کی ماں نے اسے ایک دن آدھا بنا ہوا گھونسلہ دکھایا اور ک...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن