اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
متفرق
بشیر بدرؔ بدھ، 3 جون 2026
👁 64 ❤️ 1
آنکھوں میں رہا دل میں اُتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمیں تو کہیں آسماں نہیں ملتا
غزل نے بہتے سمندر کی بات کی ہوگی
کسی نے آنکھ کے اندر کی بات کی ہوگی
پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا
میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا
یہ چراغ بے نظر ہے یہ ستارہ بے زباں ہے
ابھی تجھ سے ملتا جلتا کوئی دوسرا کہاں ہے
یوں ہی بے سبب نہ پھرا کرو کوئی شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
گھر سے باہر ڈھونڈتا رہتا ہوں دنیا بھر کو میں
اور دنیا ڈھونڈتی رہتی ہے میرے گھر کو میں
تمہارے ساتھ یہ موسم فرشتوں جیسا ہے
تمہارے بعد یہ موسم بہت ستائے گا
بڑی اداس ہے راتیں، بڑی تھکن ہے مجھے
کہاں سے لاؤں محبت کہاں سے دوں تجھ کو
یہ کس مقام پہ پہنچا دیا زمانے نے
کہ اب حیات پہ رونا بھی آ گیا ہے مجھے
کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں
عجیب شخص ہے کانٹے بچھا کے بیٹھا ہے
ہر دھڑکتے پتھر کو لوگ دل سمجھتے ہیں
عمر بیت جاتی ہے دل کو دل بنانے میں
محبت ایک خوشبو ہے ہمیشہ ساتھ چلتی ہے
کوئی انسان تنہا ہو تو جنگل راس آتا ہے
چراغ دل کے جلاؤ کہ روشنی کم ہے
یہ رات وقت کی شاید بہت طویل چلے
یہ آئینے نہیں دے سکتے تمہیں تمہاری خبر
کبھی مری آنکھ سے آ کے خود کو دیکھو
نئی رتوں کے تقاضے بدل گئے ورنہ
میں پتھروں سے بھی پھولوں کی بات کرتا تھا
جسے بھی دیکھئے وہ اپنے آپ میں گم ہے
زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا
دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے
یہ نگر سو بار لوٹا جائے گا
خوشبو کی طرح آیا وہ تیز ہواؤں میں
مانگا تھا جسے ہم نے دن رات دعاؤں میں
وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے ہر رشتہ مگر
کچھ تعلق ہیں جو صدیوں نہیں بدلا کرتے
محبتوں کے سفر میں یہ حادثہ بھی ہوا
میں جس کو چاہتا تھا وہ میرا ہو نہ سکا
دل نہ امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
یاد آتا ہے روز و شب کوئی
ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی
کسی کی یاد نے زخموں سے بھر دیا دامن
کسی کی بات نے جینا محال کر ڈالا
📖 خلاصہ

بشیر بدر کے مزید 25 مشہور اشعار کا انتخاب، جن میں محبت، وفا، جدائی، تنہائی اور زندگی کی حقیقتوں کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ اشعار اردو غزل کے شائقین کے لیے ایک قیمتی ادبی خزانہ ہیں۔

← پچھلا اگلا →

✍️ بشیر بدرؔ — مختصر تعارف

بشیر بدرؔ
📍 موضع بکیا، ضلع ایودھیا، اتر پردیش

بشیر بدر
بشیر بدر (اصل نام: سید محمد بشیر) اردو زبان و ادب کے اُن ممتاز اور عالمی شہرت یافتہ جدید غزل گو شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اردو غزل کو سادگی، روانی اور فکری گہرائی کے ساتھ ایک نیا اسلوب عطا کیا۔ آپ جدید اردو غزل کے نمائندہ اور عوامی سطح پر سب سے زیادہ مقبول شعرا میں سے ایک رہے ہیں۔

تاریخِ پیدائش و وفات
تاریخِ پیدائش: 15 فروری 1935ء
جائے پیدائش: کانپور، اتر پردیش، بھارت
آبائی و …

مزید پڑھیں ←
بشیر بدرؔ کی مزید
دل کی بستی بھی عجیب بستی ہے لوگ یہاں آ کر بھی بے گھر رہتے ہیں یونہی بے سبب نہ پھر اَجیتا کرو ...
کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو نہ...
آنکھوں میں رہا دل میں اُتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا کبھی کسی کو مکمل جہاں...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن