نظم
ع
عبداللہ راشد ذبیحؔ
بدھ، 27 مئی 2026
👁 41
❤️ 1
دلوں کے زنگ سب مل کر ہٹا دو، عید کا ہے دن
دعاؤں سے فضاؤں کو سجا دو، عید کا ہے دن
محبت کا سبق سب کو سنا دو، عید کا ہے دن
عداوت کے نشاں دل سے مٹا دو، عید کا ہے دن
پرانے رنج و غم شکوے گلے اب بھول کر سارے
گلے لگ کر خوشی اپنی بڑھا دو، عید کا ہے دن
اگر کوئی خفا ہے تم سے اس کو خود منا لینا
وفا کا ہاتھ اب آگے بڑھا دو، عید کا ہے دن
جہاں میں امن ہو، الفت ہو، بھائی چارہ قائم ہو
یہی پیغام سب کو تم سنا دو، عید کا ہے دن
ذبیحؔ اب ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں عام کر ڈالو
غموں کو مسکراہٹ میں چھپا دو، عید کا ہے دن
📖 خلاصہ
یہ خوبصورت عیدیہ کلام عبداللہ راشد ذبیح کا ہے جس میں محبت، بھائی چارے اور معافی کا پیغام دیا گیا ہے۔ شاعر دلوں کی کدورتیں مٹانے، رنج و غم بھلانے اور ایک دوسرے کو گلے لگا کر خوشیاں بانٹنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ عید صرف خوشی کا دن نہیں بلکہ دلوں کو صاف کرنے، نفرت کو ختم کرنے اور امن و الفت کو فروغ دینے کا بہترین موقع ہے۔ شاعر لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ خفا لوگوں کو منا کر، وفا اور محبت کا ہاتھ بڑھائیں اور معاشرے میں خوشیوں کو عام کریں۔
#عید شاعری
#Eid Poetry Urdu
#Abdullah Rashid Zabeeh Poetry
#عید کا پیغام
#Urdu Eid Kalam
#محبت اور بھائی چارہ
#اسلامی شاعری
#Eid Mubarak Shayari
#Urdu Nazm Eid
#Peace and Love Poetry
#Urdu Adab
#Eid Special Poem
#Forgiveness Poetry
#Urdu Shayari Eid
#Islamic Poetry Urdu
#Urdu Poetry 2026
#Eid Message
عبداللہ راشد ذبیحؔ کی مزید
ہم نے ہنس کر اسے گزارا ہے
تیرا غم بھی تو اک سہارا ہے
کوئی شکوہ نہیں زمانے سے
جو ملا ہے وہی گوار...
کامرانی ان کو ملتی ہے جہاں میں
جو جلائیں شوق کی شمعیں رواں میں
دل خیالِ یار سے مہکے ہمیشہ
جیسے...
سینوں میں قرآن ہونا چاہیے
”آدمی انسان ہونا چاہیے“
غیر سے بھی جب ملے ہنس کے ملے
ایسا ہر انسان ہو...
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
تھا وہ ہر لمہ خوشیوں کا اک خزانہ
وہ بارش میں کاغذ کی کشتی بنانا
بڑے ...


ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!