اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
انصاری عمران احمد عبداللہ منگل، 26 مئی 2026
👁 17 ❤️ 1
ایسے بکھری دوات کاغذ پر
جیسے تم ہو بذات کاغذ پر
آنکھ تیری بنا رہا تھا میں
بن گئی کائنات کاغذ پر
بعد برسوں کے ہو رہا ہے مجھے
تیرا محسوس ہاتھ کاغذ پر
عکس احساس سسکیاں دھڑکن
آگئے ساتھ ساتھ کاغذ پر
جو بھی آتا ہے دل میں لکھتا ہے
کچھ برت احتیاط کاغذ پر
خط کے ہر لفظ سے یہ لگتا ہے
جیسے ہو خواہشات کا غذ پر
جو خیالو میں تھے وہ سب آۓ
خود بخود لفظیات کاغذ پر
نام لیوا نہیں کوئی باقی
بس گئی شخصیات کاغذ پر
دن گزرتا ہے کشمکش میں اور
بیت جاتی ہے رات کا غذ پر
اب مکمل ہی کر کے جاؤ تم
نا مکمل سی بات کاغذ پر
شعر کی شکل میں اتر آیا
میرا نقشِ حیات کاغذ پر
جانے کب سے لگائے بیٹھی تھی
تیری تعریف گھات کاغذ پر
نعت لکھتے ہی بن گئی میری
مغفرت کی صراط کاغز پر
آ مرے پاس بیٹھ کر طالب
میں نہیں کرتا بات کاغذ پر
📖 خلاصہ

یہ خوبصورت کلام عمران طالب کی فکری اور جذباتی گہرائی کا آئینہ دار ہے، جس میں شاعر نے “کاغذ” کو محض تحریر کا وسیلہ نہیں بلکہ اپنی پوری کائنات بنا دیا ہے۔ ہر شعر میں قلم، دوات اور کاغذ کے استعارے کے ذری…

← پچھلا اگلا →

✍️ انصاری عمران احمد عبداللہ — مختصر تعارف

انصاری عمران احمد عبداللہ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

عمران طالبؔ (اصل نام: انصاری عمران احمد عبداللہ) 12 فروری 1998 کو مالیگاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے اپریل 2023 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور کم مدت میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ غزل، نعت اور منقبت آپ کی پسندیدہ اصنافِ سخن ہیں۔ آپ کو منتظم عاصی سے شرفِ تلمذ حاصل ہے جس نے آپ کی فکری و ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیمی اعتبار سے آپ بارہویں جماعت تک زیرِ تعلیم ر …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

انصاری عمران احمد عبداللہ کی مزید
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واس...
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واس...
آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا آخری راستہ یہی ہے کیا ہجر یادیں ملال تنہائی کیا وفا کا صلہ یہی ہے کیا ...
تیری مخمور دیکھ کر آنکھیں میری ہو جاتی ہے کسر آنکھیں راہ تکتی ہے میری تر آنکھیں موندھ لیتا ہے...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن