حضرت علی اکبرؑ کا دردناک مرثیہ | کہاں ہو اے مرے بھائی – دانش فراق
مدینے بھر میں صغریٰؑ نے یہی روتے کہا اکثر
کہاں ہو اے مرے بھائی، مرے بھائی علی اکبرؑ
تمہارے بعد سونا ہو گیا ہے گھر کا گھر منظر
تمہاری یاد میں گزری ہے ہر شام اور ہر سحر
ادب سے آ کے اکبرؑ نے جھکایا سر پدر کے پاس
طلبِ رخصت میں آنکھوں سے رواں تھا اشک کا احساس
حسینِؑ دل فگاراں نے نظر بھر کر یہ دیکھا تھا
کہ جیسے سامنے آئے ہوں نبیؐ کے نور کے انوار خاص
یہ دل کیسے گوارا کرے تیرا دشت کو جانا
تیرا دشت کو جانا اور پھر واپس بھی نا آنا
جانا ہی ہے تو پھر اے پسر اس طرح جانا
کہ جاتے جاتے مڑ مڑ کے مجھے دیکھتے جانا
پھر قضا آئی، جوانی کا گلستاں اجڑا
چاند نیزوں کی گھٹا میں سرِ میداں اجڑا
ایک آواز اٹھی، صبر کا ساماں اجڑا
"یا اَبَت!" کہتے ہی اک عالمِ امکاں اجڑا
آج بھی ذکرِ علی اکبرؑ سے دل روتا ہے
دشتِ کرب و بلا کا ہر اک ذرّہ روتا ہے
غم میں ڈوبا ہوا تاریخ کا صفحہ روتا ہے
نام لیتا ہے زمانہ تو زمانہ روتا ہے۔
یہ مرثیہ شاعر دانش فراق کی عقیدت، محبت اور غمِ اہلِ بیتؑ کا حسین اظہار ہے۔ کلام میں حضرت علی اکبرؑ کی جوانی، شجاعت اور شہادت کے دل سوز مناظر کو پیش کیا گیا ہے۔ شاعر نے امام حسینؑ کی اپنے لختِ جگر سے ج…
✍️ سید دانش نقوی — مختصر تعارف
شاعر کا نام سید دانش نقوی ہے اور قلمی نام فراق رکھتے ہیں نوجوان نمائندہ شاعر ہیں پاکستان کے شہر ڈسکہ میں رہائش پذیر ہیں۔ اُردو ادب فن شاعری پر خاصہ عبور رکھتے ہیں ۔ ان کا ایک معروف شعر دیکھئے ۔
مرحلے یوں بھی سر کریں گے ہم
تجھ سے تجھ تک سفر کریں گے ہم
دانش فراق



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!