اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ہاشم حسین انور حسین اتوار، 24 مئی 2026
👁 16 ❤️ 1
خون سے بنتے مکانوں کی کہانی لکھو
کبھی مزدور کے شانوں کی کہانی لکھو
تم لڑکپن پہ زرا دیر توقّف کرنا
جب بھی گمراہ جوانوں کی کہانی لکھو
دیکھ کر اردو زباں کو یہ مچلنا کیسا
تم بھی کچھ اپنی زبانوں کی کہانی لکھّو
کیوں نہ مارے یہ مسلمان، مسلمانوں کو
*اور*بکھرے ہوئے خانوں کی کہانی لکھو
پہلے غیبت سی بلا کا کوئی سدباب کرو
یوں نہ دیواروں کے کانوں کی کہانی لکھو
نیک اعمال و عباداتِ خداوندی سے
"تنگ و تاریک مکانوں کی کہانی لکھو"
ہاشمؔ انور مرے کردار سے منسوب ہیں جو
آؤ ان جھوٹے فسانوں کی کہانی لکھو
📖 خلاصہ

یہ غزل معاشرتی مسائل، اخلاقی زوال اور انسانی رویّوں پر گہری فکری اور تنقیدی نظر پیش کرتی ہے۔ شاعر مختلف پہلوؤں سے معاشرے کی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے، خصوصاً مزدور طبقے کی محنت، نوجوانوں کی گمراہی، اور ب…

← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن