اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کہانی

چاندنی جنگل اور ننھی پری کی جادوئی مہم

چاندنی جنگل اور ننھی پری کی جادوئی مہم
مبین انصاری
مبین انصاری ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 197 ❤️ 2

ایک سرسبز وادی میں ایک چھوٹا سا خوبصورت گاؤں آباد تھا۔ گاؤں کے اردگرد اونچے پہاڑ، بہتی ندیاں اور خوشبودار پھولوں کے باغ تھے۔ اسی گاؤں کے کنارے ایک پراسرار جنگل تھا جسے سب “چاندنی جنگل” کہتے تھے۔
لوگ کہتے تھے کہ رات کے وقت اس جنگل میں درخت چمکنے لگتے ہیں، جیسے کسی نے ان پر چاندی بکھیر دی ہو۔ کبھی کبھی وہاں سے بانسری جیسی میٹھی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں۔
اسی گاؤں میں ایک ننھی سی لڑکی رہتی تھی، جس کا نام پری تھا۔ اس کی بڑی بڑی چمکتی آنکھیں اور دل بہت نرم تھا۔ وہ ہر زخمی پرندے کی مدد کرتی اور ہر روز پھولوں سے باتیں کرتی تھی۔
پری اپنی دادی سے بہت محبت کرتی تھی۔ ہر رات دادی اسے جادوئی کہانیاں سناتیں۔ ایک رات دادی نے دھیمی آواز میں کہا،
“چاندنی جنگل میں ایک جادوئی آبشار ہے، جو صرف نیک دل بچوں کو نظر آتی ہے۔”
پری حیرت سے بولی،
“کیا واقعی؟”
دادی مسکرائیں،
“ہاں، لیکن وہاں تک پہنچنے کے لیے بہادری، سچائی اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔”
اس رات پری کو نیند نہ آئی۔ وہ کھڑکی سے چاند کو دیکھتی رہی اور سوچتی رہی کہ اگر وہ جادوئی آبشار کو ڈھونڈ لے تو شاید پورے گاؤں میں خوشیاں بھر دے۔
اگلی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی پری نے اپنا چھوٹا سا بیگ تیار کیا۔ اس میں اس نے پانی کی بوتل، کچھ روٹیاں اور اپنی دادی کی دی ہوئی نیلی شال رکھی۔
جب وہ جنگل میں داخل ہوئی تو ٹھنڈی ہوا نے اس کا استقبال کیا۔ رنگ برنگی تتلیاں اس کے گرد منڈلانے لگیں اور درختوں سے شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح ٹپک رہے تھے۔
اچانک جھاڑیوں سے ایک سفید خرگوش باہر نکلا۔ اس کی گردن میں نیلے رنگ کی ننھی سی گھنٹی بندھی ہوئی تھی۔
خرگوش بولا،
“میرا نام موتی ہے۔ تم یہاں اکیلی کیوں آئی ہو؟”
پری حیران رہ گئی کہ ایک خرگوش باتیں کر سکتا ہے۔
پری نے ہمت کرکے کہا،
“میں جادوئی آبشار کو ڈھونڈنے آئی ہوں۔”
موتی خوش ہو کر اچھلنے لگا،
“پھر تو تمہیں میری مدد کی ضرورت ہوگی!”
دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ راستے میں ایک بوڑھا درخت ملا جس کی شاخیں جھکی ہوئی تھیں اور پتے مرجھائے ہوئے تھے۔
درخت نے کمزور آواز میں کہا،
“میں بہت پیاسا ہوں۔ کئی دنوں سے بارش نہیں ہوئی۔”
پری فوراً قریبی ندی سے پانی بھر لائی۔
جیسے ہی پانی درخت کی جڑوں میں پہنچا، اس کی شاخیں ہری بھری ہو گئیں۔ درخت خوشی سے جھومنے لگا اور اس پر سنہرے آم اگ آئے۔
درخت بولا،
“تمہارا دل بہت پاک ہے۔ یہ آم اپنے سفر کے لیے رکھ لو۔”
کچھ دیر بعد جنگل گھنا ہونے لگا۔ سورج کی روشنی بھی مشکل سے زمین تک پہنچ رہی تھی۔ عجیب سی سرگوشیاں ہوا میں گونج رہی تھیں۔
موتی ڈر کر بولا،
“مجھے یہ جگہ اچھی نہیں لگتی۔”
پری نے مسکرا کر کہا،
“جب تک ہم ساتھ ہیں، ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔”
اچانک آسمان پر بادل چھا گئے۔ زور دار بارش شروع ہو گئی۔ دونوں ایک غار کی طرف بھاگے۔
غار کے اندر جگنو چمک رہے تھے۔ دیواروں پر نیلی روشنی لہرا رہی تھی، جیسے غار کے اندر چھوٹا سا آسمان ہو۔
وہاں ایک بہت بوڑھا کچھوا بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی۔
کچھوے نے کہا،
“میں بابا دھیمار ہوں۔ میں صدیوں سے اس جنگل کی حفاظت کر رہا ہوں۔”
پری نے ادب سے سلام کیا۔ بابا دھیمار مسکرائے اور بولے،
“جادوئی آبشار تک ہر کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ صرف وہی پہنچتا ہے جو دوسروں کے لیے جیتا ہو۔”
انہوں نے ایک پرانا نقشہ نکالا جس پر چمکتے ہوئے راستے بنے تھے۔
“یہ نقشہ تمہاری رہنمائی کرے گا، مگر راستے میں تمہیں آزمائشوں سے گزرنا ہوگا۔”
اگلی صبح سفر دوبارہ شروع ہوا۔ کچھ دور چلنے کے بعد انہیں ایک زخمی چڑیا ملی جس کا پر ٹوٹا ہوا تھا۔
پری نے اپنی شال کا ایک ٹکڑا پھاڑ کر اس کے پر پر باندھ دیا۔ چڑیا خوشی سے چہچہانے لگی۔
چڑیا نے اپنے پروں سے ایک سنہرا پر گرا دیا۔
“یہ تمہیں صحیح راستہ دکھائے گا۔”
سنہرا پر ہوا میں تیرنے لگا اور وہ دونوں اس کے پیچھے چل پڑے۔ راستے میں خوشبو دار پھولوں کے میدان آئے۔
اچانک وہ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں بڑے بڑے پتھروں پر پراسرار الفاظ لکھے تھے:
“صرف محبت راستہ کھولتی ہے۔"
پری نے آنکھیں بند کرکے دل سے کہا،
“میں سب کے لیے بھلائی چاہتی ہوں۔”
اچانک زمین ہلنے لگی اور پتھر الگ ہو گئے۔
سامنے ایک خفیہ راستہ نمودار ہوا جو نیلی روشنی سے جگمگا رہا تھا۔
راستے کے آخر میں ایک شفاف جھیل تھی۔ جھیل کے کنارے ایک خوبصورت ہرنی کھڑی تھی۔
ہرنی بولی،
“میں اس جنگل کی محافظ ہوں۔ آخری امتحان ابھی باقی ہے۔”
اس نے پوچھا،
“اگر تمہیں بے شمار جادوئی طاقت مل جائے تو تم کیا کرو گی؟”
پری نے فوراً جواب دیا،
“میں اسے غریبوں، جانوروں اور اپنے گاؤں کی مدد کے لیے استعمال کروں گی۔”
ہرنی کی آنکھوں میں خوشی چمکنے لگی۔
“تم واقعی اس راز کے قابل ہو۔”
اس نے اپنے کھروں سے زمین کو چھوا۔ اچانک زمین سے روشنی پھوٹنے لگی اور سامنے جادوئی آبشار ظاہر ہو گئی۔
آبشار کا پانی چاندی کی طرح چمک رہا تھا۔ اس کی آواز ایسی تھی جیسے ہزاروں گھنٹیاں ایک ساتھ بج رہی ہوں۔
پری نے اپنے ہاتھ پانی میں ڈالے۔ جیسے ہی پانی کو چھوا، اس کے دل میں عجیب سی خوشی بھر گئی۔
پھر آبشار سے ایک روشن روشنی نکلی جو ایک ننھی پری میں بدل گئی۔
ننھی پری بولی،
“تم نے بہادری، محبت اور سچائی کا ثبوت دیا ہے۔”
اس نے پری کو ایک چمکتا ہوا جادوئی بیج دیا۔
“اسے اپنے گاؤں میں لگانا۔ جہاں یہ اگے گا وہاں خوشیاں پھیل جائیں گی۔”
پری نے شکریہ ادا کیا اور واپسی کا سفر شروع کیا۔ اب جنگل پہلے سے زیادہ روشن لگ رہا تھا۔
جب وہ گاؤں پہنچی تو سب لوگ حیران رہ گئے۔ دادی نے اسے گلے لگا لیا۔
پری نے گاؤں کے بیچوں بیچ وہ جادوئی بیج لگا دیا۔ چند دنوں میں وہاں ایک بہت بڑا درخت اگ آیا۔
اس درخت پر رنگ برنگے پھول کھلتے تھے اور اس کی خوشبو سے ہر دل خوش ہو جاتا تھا۔
جو لوگ آپس میں لڑتے تھے، وہ محبت سے رہنے لگے۔ بیمار لوگ جلد صحت یاب ہونے لگے۔
بچے ہر شام اس درخت کے نیچے کھیلتے اور پری سے چاندنی جنگل کی کہانیاں سنتے۔
رات کو جب چاند نکلتا تو درخت کے پھول ہلکی روشنی دینے لگتے، بالکل چاندنی جنگل کی طرح۔
پری اکثر آسمان کی طرف دیکھ کر مسکراتی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ جادو صرف جنگل میں نہیں، بلکہ اچھے دلوں میں بھی ہوتا ہے۔
اور یوں چاندنی جنگل کی یہ جادوئی کہانی ہمیشہ کے لیے گاؤں کے لوگوں کے دلوں میں زندہ رہ گئی۔

📖 خلاصہ

یہ خوبصورت اور سبق آموز کہانی ایک ننھی لڑکی پری کی ہے جو نیک دلی، ہمت اور محبت کے جذبے کے ساتھ “چاندنی جنگل” کے پراسرار سفر پر نکلتی ہے۔ اس کا مقصد جادوئی آبشار کو تلاش کرنا ہوتا ہے تاکہ اپنے گاؤں میں…

مبین انصاری کی مزید تحریریں
احمد اور اس کی بقرعید
## ننھا دوست "چاند" سرسبز کھیتوں، آم کے درختوں اور مٹی کی خوشبو سے ب...
محبت اور مدد کی روشنی
ایک سرسبز گاؤں میں ایک ننھی سی بچی رہتی تھی، اس کا نام ندا تھا۔ ندا کی سب سے اچھ...
وقت کے پیچھے چھُپے لوگ
شہر کی روشنی، ہلچل اور سروں کے شور میں آئرہ اپنے خیالات کے سمندر میں غوطہ زن تھی...
مزید متعلقہ نثر
آخری انسان اور پہلا مشین دِل
سال 2400ء۔ انسانی جسم ناپید ہو چکا تھا۔ اب انسان صرف ڈیجیٹل ذہن بن چکا تھا — ...
وقت کا تاجر
دنیا کے ایک خاموش شہر میں، جہاں وقت رُک رُک کر چلتا تھا، ایک عجیب سی دکان کھلی —...
مریخ کا اسکول
سال 2200ء۔ زمین پر ماحولیاتی تباہی، جنگوں اور آلودگی کے باعث انسانوں کی اکثریت ...
احمد اور اس کی بقرعید
## ننھا دوست "چاند" سرسبز کھیتوں، آم کے درختوں اور مٹی کی خوشبو سے ب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن