غزل
ہاشم حسین انور حسین
اتوار، 24 مئی 2026
👁 11
❤️ 0
خاموش میرے غم کا تماشہ نہیں ہوا
اس کے سوا جہان میں کیا کیا نہیں ہوا
اے کاش آج بھی کوئی گرتی وفا کی بوند
لیکن فراقِ یار میں ایسا نہیں ہوا
جو تھا مریضِ عشق وہ دنیا سے چل بسا
لیکن کہیں بھی قتل کا چرچا نہیں ہوا
ہم تو رواجِ عشق نبھاتے رہے مگر
دشمن جہان میں کوئی اپنا نہیں ہوا
دیکھا تھا اس نے یاد ہے مڑ مڑ کے بار بار
لیکن نگاہِ نم کا گزارا نہیں ہوا
منکر نہیں ہیں اہلِ جنوں چشمِ یار کے
پھر کیوں؟ قرارِ مَن کوئی چارہ نہیں ہوا
ہم طالبانِ عشق محبت وفا کے ساتھ
"اک دل لگی کی آڑ میں کیا کیا نہیں ہوا"
برسے گھٹا ہوا ہو رواں مست ہو فضا
لیکن وصالِ یار میں ایسا نہیں ہوا
📖 خلاصہ
یہ غزل ہاشم انور ہاشم کی ایک درد بھری اور جذباتی کیفیت کی عکاس ہے، جس میں عشق، جدائی اور ناکامیِ وفا کے پہلو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ شاعر بتاتا ہے کہ اس کے غم کو کبھی پوری ط…
#غزل
#اردو غزل
#ہاشم انور ہاشم
#عشق کی شاعری
#فراقِ یار
#درد بھری شاعری
#اردو ادب
#محبت اور جدائی
#ناکام عشق
#جذباتی غزل
#کلاسک اردو شاعری
#جدید اردو غزل
#تنہائی کی شاعری
#وفا اور بے وفائی
#Urdu Ghazal
#Hashem Anwar Hashim poetry
#sad poetry Urdu
#love and separation poetry
#emotional Urdu ghazal
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!