اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
فیاض سالکؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 10 ❤️ 1
بستیاں موم کی اور نگر موم کے
پتھروں کا جگر ہے بشر موم کے
اُن کو سورج پہ تنقید کا حق نہیں
جن کے ہوتے ہیں دیوار و درموم کے
جن کے سائے میں تھا دھوپ کا یہ سفر
ہوگئے ہیں وہ سارے شجر موم کے
وہ مخالف ہوا سے الجھتے نہیں
جن پرندوں کے ہوتے ہیں پر موم کے
موم پر شعر سالک جو میں نے کہیں
لوگ آنے لگے ہیں نظر موم کے
📖 خلاصہ

فیاض سالک کی یہ غزل انسانی کمزوری، مصنوعی پن اور معاشرتی زوال کو علامتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر نے “موم” کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کے ذریعے وہ یہ بتاتا ہے کہ آج کے انسان اور معاش…

← پچھلا اگلا →

✍️ فیاض سالکؔ — مختصر تعارف

فیاض سالکؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

فیاض احمد عقیل احمد جن کا قلمی نام فیاض سالک ہے، عصرِ حاضر کے اُن ابھرتے ہوئے شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے مشاعراتی روایت اور ادبی تربیت کے سائے میں اپنی شعری شناخت قائم کی۔ آپ کی ولادت 01 جون 1984ء کو مالیگاؤں، مہاراشٹر (بھارت) میں ہوئی۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کو ادبی ماحول میسر آیا، کیونکہ آپ اپنے والدِ محترم کے ہمراہ مشاعروں میں شرکت کیا کرتے تھے۔ یہی ادبی فضا آپ کے اندر شعری ذوق کی بیداری کا …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

فیاض سالکؔ کی مزید
یادِ احمدﷺمیں بہے جب بھی ہمارے آنسو بن گئے مثلِ قمر سارے کے سارے آنسو چین آئے گا سکوں دل ...
چراغ بن کہ سرِ راہ جلنا پڑتا ہے مزاج ظلمتِ شب کا بدلنا پڑتا ہے کبھی حیات گذرتی ہے دامنِ ...
بستیاں موم کی اور نگر موم کے پتھروں کا جگر ہے بشر موم کے اُن کو سورج پہ تنقید کا حق نہیں جن کے...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن