اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
شاہد وصیؔ اتوار، 24 مئی 2026
👁 11 ❤️ 1
خود کو مشکل سے کبھی میں نے نکالا بھی نہیں
اور مشکل میں کسی شخص کو ڈالا بھی نہیں
مجھ کو سقراط سمجھتے ہیں زمانے والے
میرے ہونٹوں پہ کوئی زہر کا پیالہ بھی نہیں
فن کی دہلیز پہ جلتا ہوں چراغوں کی طرح
وائے قسمت میرے آنگن میں اجالا بھی نہیں
سر جھکائے ہوئے ملتے ہیں حوادث مجھ سے
میرے ہاتھوں میں کوئی پھول کی مالا بھی نہیں
شاعری وائری یہ طاق پہ اب رکھ دے وصی
تیرے شعروں کو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں
📖 خلاصہ

یہ فکر انگیز کلام شاہد وصی کے داخلی کرب، تنہائی اور معاشرتی بے اعتنائی کا آئینہ دار ہے۔ شاعر اپنے آپ کو ایک ایسے انسان کے طور پر پیش کرتا ہے جو نہ دوسروں کو مشکل میں ڈالتا ہے اور نہ ہی اپنی مشکلات کا …

← پچھلا اگلا →

✍️ شاہد وصیؔ — مختصر تعارف

شاہد وصیؔ
📍 مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش ، ہندوستان

محمد شاہد (وصیؔ) اردو زبان و ادب سے وابستہ اُن شعرا میں سے ہیں جنہوں نے اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری تجربات کو شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔ آپ 15 جولائی 1990ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
ابتدائی عمر ہی سے آپ کے اندر ادب سے گہرا شغف پیدا ہوا، جس میں ماحول، مطالعہ اور مشاعراتی فضا نے اہم کردار ادا کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شغف باقاعدہ شعری ذوق میں تبدیل ہوا اور آپ نے شعر و س …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

شاہد وصیؔ کی مزید
سنامی موج ہے دریا میں سر اٹھائے ہوئے مرا خدا مری کشتی کو ہے بچائے ہوئے نگاہِ ناز نے...
کس سوچ میں پڑا ہے کدھر جانا چاہئے جس سمت کی ہوا ہے اُدھر جانا چاہئے عائد نہ فردِ جرم کسی بے گنہ ...
دیکھا تھا ایک بار تجھے میں نے خواب میں اب تک نہ کوئی سامنے آیا جواب میں تم سے ملے تو زیست کے نقش...
نغمہِ بربطِ نوا چپ ہے عکس بےزار آئینہ چپ ہے شوخئِ حرفِ ماجرا چپ ہے لفظ خاموش مدعا چپ ہے ر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن