میں خود کشی نہیں کروں گی
میری آنکھیں نوحہ لکھیں گی
میرے آنسوؤں کے قلم سے
میری روح سنگ مرمر کی مانند
سرد اور بے جان ہو جائے گی
مگر میں
خودکشی نہیں کروں گی
مجھے موت سے محبت ہے
مر کے تو ہر بھوک مٹ جاتی ہے
ہر ہوس چھٹ جاتی ہے
میں دیکھتی ہوں جب مامتا کسی میں
نجانے کیوں میری
کوکھ مجھ میں سمٹ جاتی ہے
میرے ہاتھ خالی ہیں
میرا ہر مسام سوالی ہے
بے رحم آنکھوں سے نکلتی چنگاریاں
میرے وجود کو جلا کر بھسم کردیں گی
بھوکے بھیڑیوں کی نگاہیں
مجھے اندر ہی اندر ختم کردیں گی
مگر میں
خودکشی نہیں کروں گی
میں آنکھ بند کرکے جی لوں گی
سب سن کر خاموش رہ لوں گی
اپنے ہونٹ سی لوں گی
میری چیخ
میرے سینے میں ہی دم توڑ دیے گی
میرے اپنوں کی بے حسی میرا
ساتھ چھوڑ دے گی
اندھیرے راہ میں بھٹکنے کے لیے میرا ہاتھ چھوڑ دے گی
ان کی کٹھورتا کا دکھ سہہ لوں گی
بند دیواروں سے سب کہہ لوں گی
مگر میں
خودکشی نہیں کروں گی
اپنی زیست کی ساری گھٹن
اپنے خون میں اتار لوں گی
گھونٹ گھونٹ
نگل کر
یکدم قے کی صورت اگال دوں گی
میری ہی الٹیوں سے
میرا سانس رک سکتا ہے
میرا سر ایک طرف جھک سکتا ہے
اگر اگلا سانس نہ آئے
تو حادثہ سمجھ لینا
کوئی سانحہ سمجھ لینا
مگر یاد رکھنا
میں خودکشی نہیں کروں گی
اگر تمھیں اچانک
میرے مرنے کی خبر آئے
تو جان لینا
کہ کوئی
میرا کلیجہ چباگیا ہوگا
جگر چھلنی ہوگیا ہوگا
دل ناتواں پھٹ گیا ہوگا
کڑوے کسیلے لہجوں کا زہر
میری رگوں میں اتر گیا ہوگا
مگر یاد رکھنا
میں کبھی خودکشی نہیں کروں گی
یہ نظم ایک ایسی عورت کی داخلی کرب، گھٹن اور خاموش اذیت کی داستان ہے جو زندگی کے بے رحم رویّوں، سماجی جبر، اور اپنے ہی لوگوں کی بے حسی کا شکار ہے۔ وہ ہر طرح کی تکلیف، ذلت اور ذہنی اذیت سہہ رہی ہے، مگر …
✍️ ارم رحمٰن — مختصر تعارف
ارم رحمن پیشے کے لحاظ سے ایڈووکیٹ ہیں جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ اردو زبان و ادب سے فطری مناسبت کی وجہ سے کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد وہ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئیں ۔ انہوں نے اپنے مافی الضمیر کے اظہار کے لیے ابتدا میں شاعری کا انتخاب کیا ۔ ان کی نثری نظمیں کمال کی ہوتی ہیں جن میں تخلیقی وفور کے ساتھ ساتھ شعری جمالیات اور موضوعات کو نئے زاویوں سے باندھنا قاری اور ناقد دونوں کو متاثر کرتا ہے …
مزید پڑھیں ←



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!