افسانچہ
زنجیر
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 6
❤️ 0
وہ اپنے پالتو کتے کیلئے سونے کی زنجیر خرید کر لایا۔
بڑا خوش تھا۔
اسی دوران اُس کے بوڑھے والد نے آہستہ سے کہا:
"بیٹا… میری عینک ٹوٹ گئی ہے۔"
وہ جھنجھلا کر بولا:
"ابھی فضول خرچی کا وقت نہیں!"
کتے کی زنجیر چمک رہی تھی…
اور باپ کی آنکھیں دھندلا رہی تھیں۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب
### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔
بیٹے نے پوچھا:
"اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔
بیٹے نے کہا:
"اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔
ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
موبائل
گھر میں سب ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے۔
مگر ہر شخص اپنے موبائل میں گم تھا۔
دادی ...
پودا
باپ روز پودے کو پانی دیتا تھا۔
بیٹا ہنستا:
"اتنی محنت ایک چھوٹے پودے کیلئ...
چابی والا کھلونا
بچہ ضد کرکے چابی والا کھلونا لے آیا۔
دو دن بعد
وہ کونے میں پڑا تھا۔
دادا مسکر...
روشنی
محلے میں سب سے بڑا گھر اُس کا تھا۔
ہر کمرے میں جگمگاتی روشنیاں تھیں۔
مگر سامنے...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!