اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانہ

تانگا

صادق حسین محمد مرتضیٰ
صادق حسین محمد مرتضیٰ منگل، 5 مئی 2026
👁 31 ❤️ 2

ایک گھنے درخت کے سائے میں تانگا رک گیا تھا ۔
تیز دھوپ تھی ۔
آدھے دن میں کچھ سمتوں کا چکر کاٹنے سے گھوڑے کی گردن سے پسینہ بہہ کر اس کی اگلی ٹانگوں تک آپہنچا تھا۔
کیا تم ہمیں جانتے ہوـ؟
یہ آواز کان میں پڑتے ہی تانگے والا حیرت سے اسے دیکھنے لگا
اور رک رک کر کہا،"آپ کو کون نہیں جانتا ٹھاکرصاحب" ـ ٹھاکر صاحب تانگے کے اور قریب ہوتے ہوئے بولے، ہم تفریح کے لئے نکلے تھے اور راستہ بھول گئے، کافی دیر سے بھٹک رہے ہیں، کیا تم ہمیں ہمارے گھر تک ہمیں چھوڑ سکتے ہو "؟ ـ
تانگے والے نے بڑی انکساری سے اپنے سر کو خم کیا اور کہا،" جی ضرور مائی باپ آئیے " ٹھاکر صاحب تانگے پر بیٹھتے ہی تانگے والے نے گھوڑے کی پیٹھ پر چابک کی ہلکی سی ضرب لگائی اورلگام ڈھیلی چھوڑ دی۔ گھوڑا آگے بڑھا ٹک ٹک ٹک ٹک کی آواز کے ساتھ تانگا چلتارہاـ
"شکر ہے مالک کا" تانگے والے نے اتنی دھیرے کہا کے صرف خود ہی سن سکا اور سوچنے لگا ۔ آج گھوڑا ہرا چارا کھائے گا سوکھا چارا کھا کھاکرکتنا کمزور ہوگیا ۔ صبح تو کچھ کھایا بھی نہیں تھا اور کھاتا بھی کیسے اتنی کم سواریاں مل رہی ہیں کہ گھر کا گزر بسر ہی نہیں ہو پار رہا۔ خیال اور آگے بڑھا تو اسے یاد آیا چاک بھی بہت پرانی ہے اور کہیں کہیں سے ٹوٹنے بھی لگی ہے نئی لے لوں گا۔ چھت بھی پھٹ چکی ہے۔ اس نے تانگے کی چھت دیکھنے کی کوشش کی، لیکن وہ چھت سے تھوڑا آگے بیٹھا تھااور پیچھے مڑ کر دیکھنا مناسب نہیں سمجھا ۔ اسے بھی بدلنا ہے۔ مجھے امید ہے ٹھاکر صاحب اتنی اجرت دینگے کے تانگا نیا دکھائی دینے لگے گا، سواریاں بھی زیادہ ملنے لگے گیں ۔ گھر کی ہر پریشانی آہستہ آہستہ دور ہوجائے گی ۔ سڑکیں، گلیاں گزرتی رہیں۔ ٹھاکرصاحب خاموش بیٹھے اپنی حویلی کے آنے کا انتظار کرتے رہے۔ خیال کا لوہا آگ میں تپتا رہا۔ تانگا دھیرے دھیرے چلتا رہا، ٹک ٹک ٹک اور کچھ دور چل کر تانگے والے نے ٹھاکرصاحب سے پوچھاـ" آپ کہاں جانا چاہتے ہیں، آپ نے کہاں کا پتہ بتایا تھاـ
میں بھول گیاـ"
ٹھاکرصاحب اسے حیرت سے دیکھنے لگے ـ تانگے والے نے دوبارہ سوال کیا ـ ٹھاکر صاحب اپنے دماغ پر زور دیتے ہوئے بولے" ـ یاد تو مجھے بھی نہیں، چلو کسی سے پوچھ لیتے ہیں" ۔ تانگا سڑک کے کنارے کر کے تانگے والے نے، لگام کھنیچی اور ایک راہ چلتے ہوئے مسافر کو آواز دے کر روکا اور پوچھاـ" کیا آپ انھیں جانتے ہیں، مسافر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔"انھیں کون نہیں جانتا، یہ تو ٹھاکرصاحب ہیں، تانگے والے نے پھر پوچھا،" کیا آپ ان کا گھر جانتے ہیں،"
مسافر نے فوراً کہا
"جی ان کی حویلی جانتا ہوں،" اور اس نے ایک سمت اشارہ کیا ـ ٹھاکر صاحب ایک دوسری طرف ہوگئے اوراپنی جگہ پر ہاتھ مارتے ہوئے مسافر سے کہا" آؤ یہاں بیٹھ کر راستہ بتاؤ"۔ مسافر بلا جھجھک تانگے پر سوار ہوگیا۔ ایک کچے راستے کی طرف مڑکر
تانگا چلنے لگا، ٹک ٹک ٹک ٹک ـ ٹھاکرصاحب کسی خیال میں گم بیٹھے رہے اور مسافر کے ذہن میں آیا ' ٹھاکرصاحب ضرور حویلی پہنچ کر مجھے کچھ انعام کے طور پر دیں گے اور میں جب اسے اپنی بیوی کو دوں گا تو کتنا خوش ہوگی، وہ شاید زندگی میں پہلی بار اتنا پیسہ دیکھے گی' ۔ کچھ سڑکیں اور کچھ گلیاں اور گزر گئیں۔ سورج ڈھلان پر تھا اور شاید اسی لئے تیزی سے نیچے اتر گیا ۔
چلتے چلتے تانگے والے نے غور کیا تو دیکھا، ایک بستی کے نکڑ پر کوڑوں کے ڈھیر سے کچھ مرد وخواتین کچروں کے بورے پیٹھ پر لاد رہے تھےـ تانگے والے نے مسافر سے پوچھا، "اب کدھر جانا ہے۔"؟
مسافر چونکا اور اس کے منھ سے "ہونہو"۔ کی آواز نکلی اور وہ ادھر ادھر دیکھ کر بولا " شاید میں بھی راستہ بھول رہا ہوں۔ ہم ان سے پوچھ لیتے ہیں"۔ ان کچرا اٹھائے ہوئے لوگوں کی طرف ہاتھ دکھانے لگا ۔ مسافر جلدی جلدی بول گیا۔
وہ بورے اٹھائے ہوئے تانگے کی طرف ہی آ رہے تھے۔ تانگا ایک جگہ روک دیا گیا ۔
جب وہ قریب آگئے تو مسافر نے کہا ، " سنو! کیا تم ان کو جانتے ہو"؟ ۔ کچرا چننے والے ٹھاکرصاحب کی طرف دیکھنے لگے ۔ ٹھاکرصاحب نے تانگے کی کرسی پر کمان بنی ہوئی پیٹھ سیدھی کی اور گردن اٹھا کر ان کی سمت دیکھنے لگے ۔ بہ یک وقت کئی آوازیں گونجیں "یہ تو ٹھاکرصاحب ہیں"
اور انہیں کون نہیں جانتا" ۔
" کیا تم ان کی حویلی جانتے ہو؟"
مسافر نے پھر سوال کیا
" ہاں ہاں سامنے سے کئی آوازیں آئیں ۔ ٹھاکرصاحب کے کہنے پر کچھ تانگے کی پچھلی سیٹ پر تو کچھ پائیدان پر کھڑے ہوگئے، تانگا چلنے لگا ، تھوڑی دور ٹک ٹک کی آواز آتی رہی اور پھر ٹک ٹک کی آواز چَر چَر میں تبدیل ہوگئی ۔ تانگا چلتا رہا ۔ اور وہ کچرا اٹھانے والے خیالوں میں گم ہو گئے کہ ۔ حویلی پہنچ کر ٹھاکرصاحب کچھ انعام سے نوازیں گے، وہ جو پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا، سوچنے لگا ۔
جب ٹھاکرصاحب انعام دیں گے تو آج مچھلی اور ایک دیسی کاٹر گھر لیتا جاؤں گا ۔ اسی کے قریب بیٹھی ادھیڑ عمر کی عورت کی آنکھوں میں چمک اٹّھی جو یہ بتارہی تھی ۔
اس کی بیٹی کی اسکول کی فیس کا انتظام ہوگیا۔
سبھی اپنے اپنے خیالوں میں گم تھے، لیکن تانگے والے کی توجہ اب تانگے پر تھی اور وہ ٹھاکر کے احترام میں چپ بیٹھا تانگا ہانکتا رہا ، چر چر کی آواز تیز ہوتی گئی اور گھوڑے کی چال کم ہونے لگی، تانگے والے نے گھوڑے کو چابک رشید کِیا ، گھوڑا ذرا سا تیز چلنے کے لئے اپنے قدم کو آگے بڑھایا تھا کہ ایک خستہ حال چاک ٹوٹ گئی اور گھوڑا بھی دھب سے نیچے بیٹھ گیا ۔ ناگہاں حادثے کے سبب سارے زمین سے آ لگے کچھ زیادہ زخمی ہوئے اور کچھ کو معمولی چوٹیں آئیں ، جنھیں معمولی چوٹیں آئی تھیں، وہ ٹھاکرصاحب کو اٹھا کر ان کا زخم دیکھنے لگے، تانگے والے کو اپنے زخموں سے زیادہ گھوڑے کی فکر تھی جو اسے اٹھا نے کی کوشش کر رہا تھا ۔
رات سے پہلے کا وقت ہو چکا تھا ۔ ادھر ادھر جو کھڑے تھے اور کچھ اپنے کاموں میں مصروف تھے، جب ان کی نظریں اِن پر پڑی تو دوڑے چلے آئے اور آکر کچھ تماشائی بنے رہے اور کچھ تانگے والے کی مدد کرنے لگے، جب گھوڑا کسی صورت نہیں اٹھا تو تانگے والے کا چہرہ بجھ گیا آنکھیں نم ہوگئیں اور وہ بڑی بے بسی سے ٹھاکرصاحب کی طرف دیکھنے لگا جو بھیڑ میں کھڑے ایک شخص سے پوچھ رہے تھے
"کیا تم ہمیں جانتے ہوـ"

✍️ صادق حسین محمد مرتضیٰ — مختصر تعارف

صادق حسین محمد مرتضیٰ
📍 مالیگاؤں

صادق اسدؔ جن کا اصل نام صادق حسین محمد مرتضیٰ ہے آپ مالیگاؤں کی سر زمین پر اردو ادب کے لئے ہمہ تن کوشاں رہنے والی شخصیت میں ایک ہیں آپ کی قلم علمِ عروض سے مہارت کے ساتھ نثر کے میدان میں لوہا منوانے والی ہے آپ کی قلم سے صرف افسانے یا غزل ہی نہیں بلکہ بہت سی اصناف تخلیق ہوئی ہے آپ صاحبِ کتاب کی فہرست میں بھی شامل ہیں آپ کی شائع شدہ کتاب”سفید پرچم“افسانوں کا مجموعہ قارئین کی قرآت کے لئے دستیاب ہو چکا …

مزید پڑھیں ←
مزید متعلقہ نثر
وحشت دروں
جون کی گرم چمکیلی دوپہر۔۔۔نیلگوں صاف شفاف آسمان ایک شوخ و چنچل طائر خراماں خرا...
نیند
وہ ساری رات پیسے گنتا رہا۔ کاروبار بڑھتا جا رہا تھا۔ مگر کئی دنوں سے اُسے نیند...
وقت کے پیچھے چھُپے لوگ
شہر کی روشنی، ہلچل اور سروں کے شور میں آئرہ اپنے خیالات کے سمندر میں غوطہ زن تھی...
وقت کی پکار | وقت کی قدر، اتحاد اور تبدیلی پر سبق آموز اردو کہانی | قلمکار عبدالدیان اسدؔ
## وقت کی پکار گاؤں کے پرانے چوک میں ایک سوکھا ہوا برگد کھڑا تھا۔ بزرگ کہتے ت...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن