اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
منقبت
ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 22 مئی 2026
👁 14 ❤️ 1
سب نعمتیں خدا کی برائے بتول ہے
قرآں کا حرف حرف ثنائے بتول ہے
کہتے ہیں لوگ عرشِ اولی جس مقام کو
سایہ فگن وہاں بھی ردائے بتول ہے
یوں ہی خطابِ ثانیِ زَہرا نہیں ملا
زینب علی کا لہجہ ندائے بتول ہے
اعلان کر رہی ہے یہ تسبیح فاطمہ
رب کی رضا وہی جو رضائے بتول ہے
اوقات کیا ہے میری لکھوں ان کی منقبت
جو شعر ہو رہے ہیں عطائے بتول ہے
ہم جی رہے ہیں ہاشمؔ اسی کی امان میں
گھیرے ہوئے ہمیں جو دعائے بتول ہے
📖 خلاصہ

یہ خوبصورت منقبت ہاشم انور ہاشم کی عقیدت، محبت اور روحانی وابستگی کا حسین اظہار ہے جس میں حضرت فاطمہ زہراؓ کی عظمت، شان اور فضیلت کو نہایت عقیدت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے حضرت بتولؓ کو خ…

← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن