دستور
انسانی معاشرہ جب تہذیب و تمدّن کی منازل طے کرتا ہوا اجتماعی زندگی کے پیچیدہ راستوں میں داخل ہوتا ہے تو اُسے ایسے ضابطوں اور اصولوں کی ضرورت پیش آتی ہے جو اس کے معاملات کو نظم و ضبط عطا کریں۔ یہی اصول و قوانین جب کسی ریاست کی اجتماعی خواہش، سیاسی شعور اور قومی امنگوں کی صورت میں مرتب کیے جاتے ہیں تو انہیں “دستور” کہا جاتا ہے۔ دستور کسی بھی ملک کی سیاسی، قانونی اور انتظامی زندگی کی اساس ہوتا ہے۔ یہ محض دفعات و شقوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک قوم کے اجتماعی شعور، تہذیبی اقدار، سیاسی بصیرت اور قومی مقاصد کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
دستور دراصل ریاست کا وہ بنیادی قانون ہے جس کے تابع حکومت کے تمام ادارے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ یہ حکومت کے اختیارات کا تعین کرتا ہے، شہریوں کے حقوق و فرائض واضح کرتا ہے اور اقتدار کے استعمال کی حدود مقرر کرتا ہے۔ جس ملک میں دستور کی بالادستی قائم ہو وہاں انصاف، مساوات اور آزادی کو فروغ حاصل ہوتا ہے، جبکہ دستور سے انحراف معاشرتی انتشار، سیاسی بے چینی اور آمریت کو جنم دیتا ہے۔
قدیم زمانوں میں بادشاہوں اور حکمرانوں کی مرضی ہی قانون سمجھی جاتی تھی، مگر انسانی شعور کی بیداری کے ساتھ یہ احساس پیدا ہوا کہ ریاستی نظام کو شخصی خواہشات کے بجائے مستقل اصولوں کے تابع ہونا چاہیے۔ اسی شعور نے دستور کی بنیاد رکھی۔ دنیا کی تاریخ میں مختلف ادوار میں کئی اہم دستوری تبدیلیاں رونما ہوئیں جنہوں نے جدید جمہوری نظام کی راہیں ہموار کیں۔ برطانیہ کا میگنا کارٹا، امریکہ کا دستور اور فرانس کے انقلابی نظریات اسی ارتقائی سلسلے کی نمایاں کڑیاں ہیں۔
کسی بھی دستور کی چند بنیادی خصوصیات ہوتی ہیں۔ اوّل یہ کہ وہ ریاست کے اقتدارِ اعلیٰ کا سرچشمہ متعین کرتا ہے۔ دوم یہ کہ حکومت کے مختلف شعبوں، یعنی مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات اور حدود کو واضح کرتا ہے تاکہ اختیارات کا ناجائز ارتکاز پیدا نہ ہو۔ سوم یہ کہ وہ شہری آزادیوں اور بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی، مذہبی آزادی، مساوات، انصاف اور جان و مال کے تحفظ جیسے حقوق دستور ہی کے ذریعے محفوظ ہوتے ہیں۔ چہارم یہ کہ دستور ریاست کے سیاسی استحکام اور قومی وحدت کا ضامن بنتا ہے۔
جمہوری معاشروں میں دستور کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ جمہوریت کی روح ہی دستور کی پابندی میں مضمر ہے۔ اگر حکمران طبقہ دستور کو نظرانداز کرنے لگے تو جمہوریت اپنی اصل روح کھو بیٹھتی ہے۔ دستور دراصل عوام اور حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے جس کے ذریعے عوام حکمرانوں کو محدود اختیارات سونپتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہذب اقوام اپنے دستور کا بے حد احترام کرتی ہیں اور اسے قومی استحکام کی علامت سمجھتی ہیں۔
پاکستان کا دستور بھی ہماری قومی جدوجہد، اسلامی تشخص اور جمہوری امنگوں کا مظہر ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک کو مختلف سیاسی نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑا، مگر بالآخر 1973ء کا دستور قوم کے متفقہ آئینی شعور کی صورت میں سامنے آیا۔ اس دستور نے پاکستان کو ایک اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست قرار دیا۔ اس میں شہریوں کے بنیادی حقوق، پارلیمانی نظامِ حکومت اور عدلیہ کی آزادی کو واضح طور پر تسلیم کیا گیا۔ اگرچہ مختلف ادوار میں اس دستور میں ترامیم ہوتی رہیں، تاہم اس کی بنیادی روح آج بھی قومی وحدت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
دستور صرف حکمرانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے بھی یکساں اہمیت رکھتا ہے۔ اگر شہری اپنے حقوق سے آگاہ ہوں مگر اپنے فرائض سے غافل رہیں تو دستوری نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ دستور کی حقیقی روح اسی وقت زندہ رہ سکتی ہے جب حکمران قانون کے تابع ہوں اور عوام قومی ذمہ داری کا احساس رکھتے ہوں۔ قانون کی پاسداری، قومی یکجہتی، سیاسی شعور اور عدل و انصاف کا فروغ دستور ہی کے استحکام سے وابستہ ہے۔
آج کے دور میں جب دنیا سیاسی کشمکش، اقتدار کی جنگ اور مفادات کی سیاست میں الجھی ہوئی ہے، دستور کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک مضبوط اور متوازن دستور ہی کسی قوم کو انتشار سے بچا سکتا ہے۔ جو اقوام اپنے آئین کا احترام کرتی ہیں وہ ترقی، استحکام اور خوش حالی کی راہوں پر گامزن رہتی ہیں، جبکہ دستور شکنی قوموں کو زوال، خلفشار اور عدم استحکام کی طرف لے جاتی ہے۔
مختصر یہ کہ دستور کسی بھی ریاست کی روح، اس کی سیاسی شناخت اور قومی بقا کا ضامن ہوتا ہے۔ یہ قوموں کو نظم، اتحاد اور انصاف کی دولت عطا کرتا ہے۔ ایک مہذب اور باشعور قوم وہی کہلا سکتی ہے جو اپنے دستور کی حرمت کو برقرار رکھے اور اسے عملی زندگی میں نافذ کرے۔ دستور کی پاسداری دراصل قومی وقار، جمہوری استحکام اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!