غزل
علیم طاہر
جمعرات، 21 مئی 2026
👁 100
❤️ 2
وہ کہہ رہے ہیں بتاؤ کدھر اندھیرا ہے
میں جانتا ہوں ذرا ٹھہرو ادھر اندھیرا ہے
سمجھ رہے ہیں کہ سورج تو نکل آیا ہے
اجالا چار سو پھیلا مگر اندھیرا ہے
دماغ سوچ رہا ہے کہاں پہ جائیں اب
یہ دل تو ڈھونڈتا رونق ، نگر اندھیرا ہے
یہ روشنی جو بہت دور تلک پھیلی ہے
قدم تو اجلے ہیں لیکن ڈگر اندھیرا ہے
جو جلتا دل ہے ہتھیلی پہ رکھ کے چلیے گا
تو یوں بھی کیجیے صاحب اگر اندھیرا ہے
✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف
📍 مالیگاؤں
علیم طاہر _شاعر و ادیب
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
علیم طاہر کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے
جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے
مرے وجود سے ...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد
دھڑکندھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس
مجھ کو تیرے سنگ چ...
ڈراما نگار: علیم طاہر
کردار:
بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ)
سلمان (بابا جان کا پوتا، 20...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ
تحریر (رائٹر) : علیم طاہر
کردار:
رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے د...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!