افسانچہ
قلم
علیم طاہرؔ
ہفتہ، 23 مئی 2026
👁 10
❤️ 1
استاد نے کلاس میں پوچھا:
"بڑا ہو کر کیا بنو گے؟"
سب بچوں نے بڑے بڑے خواب بتائے۔
کوئی ڈاکٹر، کوئی انجینئر، کوئی افسر۔
ایک غریب بچے نے کہا:
"میں صرف پڑھنا چاہتا ہوں۔"
استاد حیران ہوا:
"بس؟"
بچہ مسکرایا:
"جی… کیونکہ ابا کہتے ہیں
غریب کے ہاتھ میں قلم آ جائے
تو قسمت بدل سکتی ہے۔"
استاد کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
علیم طاہرؔ کی مزید تحریریں
ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب | شخصیت، شاعری اور ادبی خدمات
## ڈاکٹر بشیر بدر: محبت، درد اور تہذیبِ غزل کا روشن باب
### ایک ایسا شاعر جس کے...
چراغِ آخر
بوڑھا شاعر اپنی آخری نظم لکھ رہا تھا۔
بیٹے نے پوچھا:
"اب اس عمر میں کیوں ...
بند کتاب
بوڑھا استاد روز اپنی پرانی کتابیں صاف کرتا تھا۔
بیٹے نے کہا:
"اب اِنہیں ک...
آئس کریم
چھوٹا بچہ آئس کریم والے کو حسرت سے دیکھ رہا تھا۔
ایک اجنبی نے اُسے آئس کریم خری...
مزید متعلقہ نثر
دولت
وہ اپنے بچوں کیلئے دولت جمع کرتا رہا۔
بچوں نے بڑے ہوکر اُسے اولڈ ایج ہوم چھوڑ د...
دروازہ
باپ بڑھاپے میں آہستہ آہستہ چلتا تھا۔
بیٹے کو اُس کے ساتھ بازار جانا شرمندگی لگت...
لائک
وہ روز غریبوں کی مدد کی تصویریں پوسٹ کرتا تھا۔
ہزاروں لائکس آتے۔
ایک دن ایک بو...
کھڑکی
بوڑھی ماں روز کھڑکی کے پاس بیٹھ جاتی تھی۔
ہر گزرتی گاڑی پر چونک اٹھتی۔
پڑوسن ن...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!