غزل
ہاشم حسین انور حسین
منگل، 19 مئی 2026
👁 14
❤️ 2
میرے دل کے وہ انتخاب ہوئے
غم جو مقصودِ انقلاب ہوئے
نذرِ الفت کئی گلاب ہوئے
تب محبت میں کامیاب ہوئے
حسرتِ وصَل مرگئ دل میں
ہجر سے اتنا فیضیاب ہوئے
تھام کر راستہ محبت کا
ہم یہاں موردِ عتاب ہوئے
جن کی مشہور، رہی ہے درویشی
وہ بھی مقروضِ آب و تاب ہوئے
لوگ مایوس ہو گئے جس پر
” ہم اُسی رہگذر پہ یاب ہوئے“
ہر اک منزل ہمیں ملی ہاشمؔ
حوصلے جب سے ہم رکاب ہوئے
📖 خلاصہ
یہ فکر و احساس سے بھرپور غزل ہاشم انور ہاشم کی پختہ شعری بصیرت اور جذباتی گہرائی کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے عشق، ہجر، قربانی، حوصلے اور انسانی جدوجہد کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ غزل میں محب…
#Hashim Anwar Hashim
#ہاشم انور ہاشم
#Urdu Ghazal
#Love Poetry Urdu
#Emotional Urdu Poetry
#اردو غزل
#Deep Urdu Shayari
#Ishq Poetry Urdu
#Hajr Poetry Urdu
#Modern Urdu Poetry
#Urdu Adab
#Literary Urdu Poetry
#Romantic Urdu Shayari
#Urdu Literature
#Motivational Urdu Poetry
#Classical Urdu Ghazal
#He
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!