غزل
ہاشم حسین انور حسین
منگل، 19 مئی 2026
👁 11
❤️ 0
صحرا سمندروں کی کہانی سنائے گا
رودادِ تس سراب روانی سنائے گا
اس پر عمل کرے گا نہ کچھ فیض پاۓگا
پڑھ کر وہ جو کتاب زبانی سنائے
آیا ہے ذکر ان کا جو اشعار میں مرے
غم کا وہی تو اصل ، معانی سنائے گا
جس کو سمجھ رہا تھا میں نادار و ناتواں
کیا تھی خبر کے بات شہَانی سنائے گا
پیاسا تمہاری دید کا آنکھوں سے ٹوٹ کر
سیلاب اپنی تشنہ دہانی سنائے گا
ہے جو درون اس کے کہے گا وہ کھل کے آج
یعنی مرے خلاف کہانی سنائے گا
ہاشم کہہ گا اچھے ہیں لمحاتِ ہجر بھی
روکر جو وصل اپنی سنانی سنائے گا
📖 خلاصہ
یہ فکری، جذباتی اور معنی آفرین غزل ہاشم انور ہاشم کی خوبصورت شاعری کا عمدہ نمونہ ہے۔ شاعر نے اس غزل میں عشق، ہجر، سراب، پیاس اور انسانی باطن کی کیفیات کو نہایت دلنشیں استعاروں کے ذریعے بیان کیا ہے۔ صح…
#Hashim Anwar Hashim
#ہاشم انور ہاشم
#Urdu Ghazal
#Emotional Urdu Poetry
#Love Poetry Urdu
#Sad Urdu Shayari
#اردو غزل
#Modern Urdu Poetry
#Deep Urdu Shayari
#Urdu Adab
#Hajr Poetry Urdu
#Ishq Poetry Urdu
#Literary Urdu Poetry
#Urdu Literature
#Heart Touching Poetry
#Classical Urdu Ghazal
#Romantic U
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!