غزل
عزیز ساگر
منگل، 19 مئی 2026
👁 18
❤️ 1
تمہاری قسمیں، تمہارے وعدے پڑے ہوئے ہیں
ہمارے دل میں کئی جنازے پڑے ہوئے ہیں
وہ کر رہے ہیں نئے تعلق کی تاج پوشی
پرانے رشتوں کے منھ پہ چانٹے پڑے ہوئے ہیں
جو کل مسائل کا حل بتاتے تھے دوسروں کو
سو اب مسائل انہیں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں
سمندروں نے ننگل لئے ہیں کئی گھروندے
یہ دیکھو ساحل پہ میرے سپنے پڑے ہوئے ہیں
کوئی گلی میں صدائیں دے دے کے مانگتا ہے
کہیں خزانوں کے بند مٹکے پڑے ہوئے ہیں
کسی کو دہلیز باندھ رکھتی ہے مرتے دم تک
کسی کے پیروں میں صرف رستے پڑے ہوئے ہیں
یہ ہجرتوں کے پہاڑ تم سے نہیں کٹیں گے
کئی کہانی کئی حوالے پڑے ہوئے ہیں
شکاریوں نے شکار کرنے کی ٹھان لی ہے
سو فاختاؤں کو جاں کے لالے پڑے ہوئے ہیں
تمہاری یادوں کے گرم صحرا میں چلتے چلتے
عزیز ساگر کے دل میں چھالے پڑے ہوئے ہیں



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!