اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ع
عبداللہ راشد ذبیحؔ منگل، 19 مئی 2026
👁 97 ❤️ 3
ہم نے ہنس کر اسے گزارا ہے
تیرا غم بھی تو اک سہارا ہے
کوئی شکوہ نہیں زمانے سے
جو ملا ہے وہی گوارا ہے
اپنی تنہائیوں میں خوش ہیں ہم
دل نے خود کو ہی اب سنوارا ہے
عمر گزری ہے خود سے لڑتے ہوئے
خود کو کھو کر خودی کو پایا ہے
ڈوبتی کشتیٔ کو اب میری
مولٰی تیرا ہی تو سہارا ہے
کیوں ذبیحؔ اتنا دل لگاتے ہو
اس جہاں سے سبھی کو جانا ہے
📖 خلاصہ

یہ سادہ مگر گہرے احساسات سے بھرپور غزل عبداللہ راشد ذبیح کی فکری پختگی اور روحانی سوچ کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے زندگی کے غم، تنہائی، صبر اور خود شناسی کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ غزل میں د…

← پچھلا اگلا →
عبداللہ راشد ذبیحؔ کی مزید
کامرانی ان کو ملتی ہے جہاں میں جو جلائیں شوق کی شمعیں رواں میں دل خیالِ یار سے مہکے ہمیشہ جیسے...
سینوں میں قرآن ہونا چاہیے ”آدمی انسان ہونا چاہیے“ غیر سے بھی جب ملے ہنس کے ملے ایسا ہر انسان ہو...
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ تھا وہ ہر لمہ خوشیوں کا اک خزانہ وہ بارش میں کاغذ کی کشتی بنانا بڑے ...
جس کی اردو زبان ہوتی ہے اس کی باتوں میں جان ہوتی ہے میری نظموں کی شان ہے اردو سب زبانوں کی جان...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (1)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں
مغان مالیگانوی بدھ، 20 مئی 2026
ہم نے ہنس کر اسے گزارا ہے تیرا غم بھی تو اک سہارا ہے یہ شعر انسانی حوصلے اور عشق کی گہری کیفیت کو نہایت سادگی سے بیان کرتا ہے۔ شاعر دکھ اور تکلیف کو شکایت کے بجائے مسکرا کر برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے، جو اس کے مضبوط کردار کی علامت ہے۔ دوسرے مصرعے میں ایک خوبصورت تضاد سامنے آتا ہے کہ محبوب کا دیا ہوا غم ہی اس کی زندگی کا سہارا بن گیا ہے۔ یوں یہ شعر ظاہر کرتا ہے کہ سچا عاشق اپنے دکھ کو بھی قیمتی سمجھتا ہے، کیونکہ وہ محبوب سے وابستہ ہوتا ہے۔
ادبی AI معاون
● آن لائن