اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
اسدؔ ھاشمی منگل، 19 مئی 2026
👁 16 ❤️ 2
کشتیِ زیست کو طوفاں سے نکالا کس نے
بحرِ ظلمات میں گرتوں کو سنبھالا کس نے
کیسے بتلاؤں اسیرانِ محبت تم کو
دل میں احساسِ محبت مرے ڈالا کس نے
تجھ کو منزل پہ پہنچتے ہوئے سب نے دیکھا
یہ بتا پاؤں کا دیکھا ترے چھالا کس نے
ایک مدت سے اندھیرا ہی اندھیرا تھا یہاں
کر دیا آکے مرے گھر میں اجالا کس نے
تم تو کہتے تھے شریفوں کی یہ بستی ہے اسد
پھر مرے سر سے یہ دستار اچھالاکس نے
📖 خلاصہ

یہ فکر و احساس سے بھرپور غزل اسد ہاشمی کی پختہ شاعری اور گہرے مشاہدے کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے زندگی کے طوفانوں، محبت کے احساسات، جدوجہد اور سماجی رویّوں کو نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ غزل میں…

← پچھلا اگلا →

✍️ اسدؔ ھاشمی — مختصر تعارف

اسدؔ ھاشمی
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اسد ؔھاشمی : فن و شخصیت

نام:- ضیاء المصطفی محمّد اسماعیل یارعلوی
تخلص:- اسد ؔہاشمی
جائے پیدائش:- مالیگاؤں
تاریخ پیدائش:- 1986-03-28
رہائش:- عباس نگر ۔ مالیگاؤں (ناسک)
پیشہ:- صنعت پارچہ بافی سے منسلک
مشغلہ:- اردو شعر و سخن کے استاد شعرائے کرام کو پڑھنا ادبی مشاعروں اور نشستوں میں شرکت کرنا۔اسدؔ ہاشمی صاحب کا شمار شہر مالیگاؤں کے ان نوجوان شعرائے کرام میں ہوتا ہے جو اردو شعر و س …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

اسدؔ ھاشمی کی مزید
یاد معروف شاعر اسدؔ ہاشمی کا جدید غزلیات پر مشتمل ایک خوبصورت شعری مجموعہ ہے جس میں عصرِ حاضر کے انس...
اے خدا روزِ ازل سے اس چراغِ طور تک تو ہی تو آیا نظر میری نظر کو دور تک نورِ حق سنتے ہیں تیری اک...
کشتیِ زیست کو طوفاں سے نکالا کس نے بحرِ ظلمات میں گرتوں کو سنبھالا کس نے کیسے بتلاؤں اسیرانِ محب...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن