اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کربلا نامہ

کربلا – پہلا دن مکمل | وہ سفر جو تاریخ بن گیا | محرم خصوصی سلسلہ نمبر 1

کربلا – پہلا دن مکمل | وہ سفر جو تاریخ بن گیا | محرم خصوصی سلسلہ نمبر 1
منتظم عاصیؔ
منتظم عاصیؔ منگل، 16 جون 2026
👁 435 ❤️ 4

کربلا — پہلا دن یکم محرم 1448ھ

وہ سفر جو قدموں سے پہلے دل میں شروع ہوا
رات مکمل خاموش نہیں تھی۔
مدینہ کی راتیں کبھی مکمل خاموش نہیں ہوتیں۔
کہیں کسی گھر میں چراغ جلتا رہتا ہے، کہیں کوئی مسافر دیر سے لوٹتا ہے، کہیں کوئی عبادت میں کھڑا رہتا ہے۔
مگر اُس رات ایک اور طرح کی خاموشی تھی۔
وہ خاموشی جو کسی بڑے فیصلے سے پہلے آتی ہے۔
ہوا چل رہی تھی مگر اس میں اطمینان نہیں تھا۔
وقت گزر رہا تھا مگر جیسے ٹھہر ٹھہر کر۔
شہر وہی تھا، گلیاں وہی تھیں، دروازے وہی تھے، لیکن حالات بدل چکے تھے۔
ایک سیاسی تبدیلی ہو چکی تھی۔
اقتدار منتقل ہو چکا تھا۔
اور اب مطالبہ صرف اطاعت کا نہیں تھا — تائید کا تھا۔
تاریخ کے بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جہاں انسان کے سامنے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں:
یا خاموش رہو، یا اپنی خاموشی کی قیمت ادا کرو۔
ایسے وقت میں بہت سے لوگ سمجھوتہ کرتے ہیں۔
بہت سے لوگ وقت کے ساتھ چلنے کو عقل مندی کہتے ہیں۔
بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ابھی حالات مناسب نہیں۔
لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے فیصلے حالات سے نہیں لیتے — اصول سے لیتے ہیں۔
اسی شہر میں ایک گھر تھا۔
یہ وہ گھر تھا جہاں بچپن میں نبوت کی خوشبو دیکھی گئی تھی۔
جہاں نماز صرف عبادت نہیں، زندگی تھی۔
جہاں حق کو مصلحت پر ترجیح دینا وراثت تھا۔
اور اب اسی گھر کے دروازے پر سوال کھڑا تھا۔
فیصلہ صرف ایک شخص کا نہیں تھا۔
فیصلہ آنے والے وقتوں کا تھا۔
یہ سوال نہیں تھا کہ کون حکومت کرے گا۔
یہ سوال تھا کہ کیا ہر طاقت حق بھی بن جاتی ہے؟
یہ سوال تھا کہ کیا ہر بیعت رضامندی ہوتی ہے؟
یہ سوال تھا کہ کیا خاموشی ہمیشہ امن ہوتی ہے؟
کہتے ہیں کہ بڑے لوگ شور سے نہیں پہچانے جاتے۔
وہ اُس وقت پہچانے جاتے ہیں جب اُن کے پاس خاموش رہنے کا موقع ہو اور پھر بھی وہ اپنے ضمیر کی آواز سنیں۔
یہاں بھی یہی ہونے والا تھا۔
جلدی نہیں تھی۔
نعرے نہیں تھے۔
لوگ جمع نہیں کیے گئے۔
بلکہ غور تھا، دعا تھی، سوچ تھی۔
اور شاید یہی وہ لمحہ تھا جہاں تاریخ نے پہلی بار محسوس کیا کہ آگے جو ہونے والا ہے، وہ صرف ایک واقعہ نہیں ہوگا۔
یہ ایک معیار بنے گا۔
ابھی سفر شروع نہیں ہوا تھا۔
ابھی اونٹ تیار نہیں ہوئے تھے۔
ابھی رخصتی کے منظر باقی تھے۔
مگر دل نے سفر شروع کر دیا تھا۔
اور اکثر سب سے طویل سفر وہی ہوتے ہیں
جو قدم اٹھانے سے پہلے شروع ہو جاتے ہیں۔
وہ رات جب مدینہ سو رہا تھا مگر تاریخ جاگ رہی تھی
رات گہری ہو رہی تھی۔
مدینہ کی گلیوں میں معمول کے قدموں کی چاپ کم ہونے لگی تھی۔
دروازے بند ہو رہے تھے۔
چراغ بجھنے لگے تھے۔
اور شہر اپنے روزمرہ کے سکون کی طرف لوٹ رہا تھا۔
مگر ہر رات سب کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔
کچھ لوگ اُس وقت جاگتے ہیں
جب باقی دنیا سو رہی ہوتی ہے۔
اور کچھ فیصلے اُس وقت لیے جاتے ہیں
جب شور کم ہو جائے اور انسان اپنے دل کی آواز سن سکے۔
اُس رات بھی شاید ایسا ہی تھا۔
یہ صرف ایک سیاسی اختلاف کا لمحہ نہیں تھا۔
یہ ایک سوال تھا جس کا جواب وقت مانگ رہا تھا۔
اگر خاموشی اختیار کر لی جائے تو کیا سب کچھ بچ جائے گا؟
اگر سمجھوتہ کر لیا جائے تو کیا آنے والی نسلیں محفوظ رہیں گی؟
اگر آج زبان بند رکھی جائے تو کیا کل حق بول سکے گا؟
یہ سوال آسان نہیں ہوتے۔
یہ انسان سے صرف رائے نہیں مانگتے — قیمت مانگتے ہیں۔
اور قیمت ہمیشہ الفاظ سے ادا نہیں ہوتی۔
کبھی گھر سے ادا ہوتی ہے۔
کبھی آرام سے۔
کبھی تعلقات سے۔
اور کبھی پوری زندگی سے۔
اسی رات شاید کئی چیزیں دل کے اندر طے ہو رہی تھیں۔
انسان جب کوئی بڑا فیصلہ کرتا ہے تو سب سے پہلے اپنے آپ سے گفتگو کرتا ہے۔
وہ خود سے پوچھتا ہے:
کیا یہ راستہ ضروری ہے؟
کیا اس کے بغیر گزارا نہیں؟
کیا خاموشی واقعی امن دے گی؟
اور پھر کہیں دل کے اندر سے ایک جواب آتا ہے:
ہر امن، امن نہیں ہوتا۔
کبھی خاموشی آنے والی صدیوں کی بے چینی بن جاتی ہے۔
مدینہ اپنی جگہ قائم تھا۔
مسجد اپنی جگہ تھی۔
فضا اپنی جگہ تھی۔
مگر ایک چیز بدلنے والی تھی۔
ایک قافلہ اٹھنے والا تھا۔
وہ قافلہ جس کے پاس لشکر نہیں تھا،
مگر یقین تھا۔
جس کے پاس طاقت نہیں تھی،
مگر اصول تھا۔
جس کے پاس دنیا جیتنے کا ارادہ نہیں تھا،
مگر اپنے ضمیر کو ہارنے کا ارادہ بھی نہیں تھا۔
رات ابھی باقی تھی۔
صبح ابھی آنی تھی۔
لوگ ابھی سو رہے تھے۔
لیکن تاریخ جاگ چکی تھی۔
اور تاریخ جب جاگ جائے
تو پھر عام دن، عام نہیں رہتے۔
رخصتی — جب گھر موجود تھا مگر قیام ممکن نہ رہا
صبح ابھی پوری طرح روشن نہیں ہوئی تھی۔
آسمان پر روشنی کی ہلکی تہہ پھیل رہی تھی۔
وہ وقت جب رات مکمل جاتی نہیں اور دن مکمل آتا نہیں۔
ایسے وقت میں انسان کے دل بھی عجیب ہو جاتے ہیں۔
کچھ فیصلے سورج نکلنے سے پہلے ہو جاتے ہیں۔
اور پھر پورا دن اُن کے پیچھے چلتا رہتا ہے۔
مدینہ ابھی اپنی جگہ تھا۔
گھر اپنی جگہ تھا۔
دیواریں وہی تھیں جنہوں نے برسوں کی یادیں سنبھال رکھی تھیں۔
دروازے وہی تھے جن سے لوگ محبت لے کر آتے اور دعا لے کر لوٹتے تھے۔
لیکن بعض اوقات گھر باقی رہتا ہے
اور قیام ختم ہو جاتا ہے۔
یہ رخصتی ناراضی کی نہیں تھی۔
یہ جدائی دنیا سے بے زاری کی نہیں تھی۔
یہ ایک ذمہ داری تھی۔
وہ ذمہ داری جو انسان خود نہیں چنتا — وقت اُس کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے۔
گھر میں لوگ تھے۔
رشتے تھے۔
اپنے تھے۔
وہ چہرے بھی تھے جنہیں دیکھ کر دل ٹھہر جاتا ہے۔
بچے بھی تھے۔
اور بچوں کی موجودگی ہمیشہ سفر کو مشکل بنا دیتی ہے۔
کیونکہ انسان اپنے لیے سفر کرے تو آسان ہوتا ہے،
لیکن جب اپنے ساتھ ہوں تو ہر قدم سوچ کر اٹھتا ہے۔
یہاں بھی ایسا ہی تھا۔
مگر کبھی کبھی منزل کا یقین راستے کی دشواری سے بڑا ہو جاتا ہے۔
رخصتی ہمیشہ آنسو نہیں مانگتی۔
کبھی رخصتی خاموش ہوتی ہے۔
لوگ دیکھتے ہیں، سمجھتے ہیں، مگر کہتے کچھ نہیں۔
کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جہاں الفاظ چھوٹے پڑ جاتے ہیں۔
یہ بھی شاید ایسا ہی لمحہ تھا۔
ابھی کسی نے کربلا نہیں دیکھی تھی۔
ابھی کسی نے فرات کا ذکر نہیں کیا تھا۔
ابھی کسی نے پیاس کے دن نہیں گنے تھے۔
ابھی کسی نے میدان کی خاک نہیں دیکھی تھی۔
صرف ایک سفر تھا۔
اور ایک یقین۔
کہ بعض راستے اس لیے نہیں چنے جاتے کہ وہ آسان ہوتے ہیں۔
بلکہ اس لیے چنے جاتے ہیں کہ اُنہیں چھوڑ دینا خود کو چھوڑ دینا ہوتا ہے۔
قافلہ تیار ہو رہا تھا۔
سامان جمع ہو رہا تھا۔
نگاہیں پلٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھیں۔
اور شاید دل جانتا تھا کہ بعض رخصتیاں واپسی کے لیے نہیں ہوتیں۔
کچھ سفر منزل تک نہیں جاتے۔
وہ تاریخ تک جاتے ہیں۔
اور یہ بھی ویسا ہی سفر تھا۔
مدینہ ابھی پیچھے نہیں چھوٹا تھا۔
لیکن دل جان گیا تھا—
اب زندگی پہلے جیسی نہیں رہے گی۔
قافلہ چل پڑا — اور مدینہ خاموش کھڑا رہا
صبح اب پوری طرح اتر چکی تھی۔
سورج اپنی جگہ موجود تھا۔
روشنی ویسی ہی تھی جیسی ہر روز ہوتی ہے۔
لوگ جاگ رہے تھے۔
زندگی اپنے معمول کی طرف لوٹ رہی تھی۔
لیکن ہر صبح سب کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔
کچھ صبحیں تاریخ کے اندر طلوع ہوتی ہیں۔
اور اُس دن شاید ایسی ہی ایک صبح تھی۔
قافلہ تیار تھا۔
چلنے کا وقت قریب آ چکا تھا۔
کوئی شور نہیں تھا۔
کوئی اعلان نہیں۔
کوئی فتح کا نقارہ نہیں۔
صرف قدم تھے۔
اور اُن قدموں میں ایک عجیب وقار۔
ایسے جیسے راستہ مشکل معلوم ہو
مگر دل نے اُس سے پہلے ہی مصالحت کر لی ہو۔
یہ سفر تیزی میں نہیں اٹھا۔
کوئی بھاگا نہیں۔
کوئی گھبراہٹ نہیں تھی۔
بلکہ ایک سکون تھا۔
وہ سکون جو اُس انسان میں ہوتا ہے
جو نتیجے سے زیادہ نیت کو دیکھتا ہے۔
مدینہ موجود تھا۔
وہی شہر جس نے نبوت کی روشنی دیکھی تھی۔
وہی فضا جس میں اذانیں گونجی تھیں۔
وہی راستے جہاں قدموں کی پہچان تھی۔
اور اب انہی راستوں سے ایک قافلہ نکل رہا تھا۔
مگر عجیب بات یہ تھی—
جانے والوں کے پاس اقتدار نہیں تھا،
لیکن تاریخ اُن کے ساتھ جا رہی تھی۔
بعض سفر فاصلے طے نہیں کرتے۔
وہ معنی طے کرتے ہیں۔
یہ بھی ویسا ہی سفر تھا۔
راستہ ابھی لمبا تھا۔
منزل ابھی دور تھی۔
کئی شہروں سے گزرنا تھا۔
کئی سوال سامنے آنے تھے۔
کئی خط ملنے تھے۔
کئی فیصلے باقی تھے۔
مگر ایک چیز طے ہو چکی تھی:
واپسی اب پہلے جیسی نہیں ہوگی۔
جب انسان حق کی طرف قدم اٹھاتا ہے
تو وہ صرف راستہ نہیں بدلتا—
وہ اپنے زمانے کے معیار بدل دیتا ہے۔
قافلہ آگے بڑھ رہا تھا۔
پیچھے شہر رہ گیا تھا۔
دیواریں رہ گئیں۔
یادیں رہ گئیں۔
اور شاید کچھ نگاہیں بھی—
جو دیر تک جاتے ہوئے راستے کو دیکھتی رہیں۔
کسی نے اُس لمحے نہیں جانا ہوگا
کہ یہ سفر صرف لوگوں کے درمیان گفتگو نہیں بنے گا۔
یہ صدیوں تک ضمیر کی آواز بن جائے گا۔
اور یہ تو بس آغاز تھا۔
کربلا ابھی بہت دور تھی۔
پہلی منزل — جب سفر راستے سے نکل کر تاریخ میں داخل ہوا
قافلہ اب مدینہ کی حدوں سے آگے بڑھ چکا تھا۔
پیچھے شہر رہ گیا تھا۔
وہ شہر جس میں بچپن کی یادیں تھیں۔
رشتوں کی حرارت تھی۔
عبادت کی ساعتیں تھیں۔
اور وہ تمام لمحے بھی جو انسان کو کسی جگہ سے جوڑ دیتے ہیں۔
مگر کچھ سفر انسان کو اُس سے جدا نہیں کرتے جس سے وہ محبت کرتا ہے—
بلکہ اُس محبت کے معنی بڑے کر دیتے ہیں۔
راستہ سامنے پھیلا ہوا تھا۔
ریت تھی۔
خاموشی تھی۔
اور چلتے ہوئے قدم۔
کوئی جلدی نہیں تھی۔
جیسے سب جانتے ہوں کہ یہ سفر وقت کے خلاف نہیں، وقت کے لیے ہو رہا ہے۔
سفر کی ابتدا میں انسان کے پاس امید زیادہ ہوتی ہے اور سوال کم۔
لیکن کچھ راستے ایسے ہوتے ہیں جہاں قدم بڑھنے کے ساتھ سوال بھی ساتھ چلنے لگتے ہیں۔
یہ راستہ بھی ویسا ہی تھا۔
آگے کیا ہوگا؟
کون ساتھ رہے گا؟
کون پلٹ جائے گا؟
کس مقام پر امتحان شروع ہوگا؟
یہ سب ابھی پردے میں تھا۔
مگر ایک چیز ظاہر تھی—
یہ سفر معمول کا سفر نہیں تھا۔
یہ سفر کسی نئے شہر میں سکون تلاش کرنے نہیں نکلا تھا۔
یہ سفر ایک سوال کو زندہ رکھنے نکلا تھا:
کیا انسان اپنے ضمیر کے خلاف امن حاصل کر سکتا ہے؟
یا سچائی کبھی کبھی سفر مانگتی ہے؟
قافلے میں اہلِ خانہ بھی تھے۔
زندگی بھی ساتھ تھی۔
امید بھی۔
اور وہ خاموش اعتماد بھی جو بڑے مقصد کے ساتھ چلنے والوں کے چہروں پر اتر آتا ہے۔
کبھی تاریخ میدان میں نہیں بنتی۔
کبھی تاریخ اُس لمحے بن جاتی ہے
جب انسان جانتے ہوئے بھی آسان راستہ اختیار نہیں کرتا۔
یہ پہلا دن تھا۔
ابھی نہ پیاس کا ذکر تھا۔
نہ میدان کا۔
نہ آخری رخصتیوں کا۔
نہ جدائیوں کا۔
صرف ایک سفر تھا—
اور ایک فیصلہ۔
لیکن وقت جانتا تھا:
بعض فیصلوں کے اثرات فوراً نہیں دکھائی دیتے۔
وہ صدیوں بعد سمجھ آتے ہیں۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا۔
ریت اڑتی رہی۔
آسمان خاموش رہا۔
اور تاریخ—
تاریخ اُن قدموں کے ساتھ چلتی رہی۔
پہلا دن ختم ہوا۔
لیکن اصل سفر ابھی شروع ہوا تھا۔

📖 خلاصہ

کربلا کی یہ پہلی قسط کسی جنگ، میدان یا انجام سے نہیں بلکہ ایک خاموش فیصلے سے شروع ہوتی ہے۔ مدینہ کی فضا، بدلتے ہوئے حالات اور ایک ایسے سفر کا آغاز جس نے بعد میں تاریخ، فکر اور انسانی ضمیر پر گہرا اثر …

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اپنی بات

محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …

مزید پڑھیں ←
منتظم عاصیؔ کی مزید تحریریں
کربلا – دسویں دن مکمل | کچھ دن ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
## کربلا — دسویں دن 10 محرم 1448ھ جب صبح صرف روشنی نہیں لاتی، تاریخ کا ایک با...
کربلا – نواں دن مکمل | کچھ راتیں انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
کربلا — نواں دن 9 محرم 1448ھ بعض دن سورج سے نہیں، دل کی دھڑکن سے پہچانے جاتے ...
کربلا – آٹھواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کو معنی دے دیتے ہیں
## کربلا — آٹھواں دن 8 محرم 1448ھ کبھی امتحان سامنے آنے سے پہلے دل اُس کی جگہ...
نشہ — انسانیت کا زوال | نشے کے سماجی، نفسیاتی اور انسانی اثرات پر طویل تحقیقی اردو مضمون
## نشہ — انسانیت کا زوال ### باب اوّل جب انسان اپنے آپ سے دور ہونے لگتا ہے ...
مزید متعلقہ نثر
کربلا – نواں دن مکمل | کچھ راتیں انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
کربلا — نواں دن 9 محرم 1448ھ بعض دن سورج سے نہیں، دل کی دھڑکن سے پہچانے جاتے ...
کربلا – ساتواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کے اندر باقی رہتے ہیں | سلسلہ نمبر 7
کربلا — ساتواں دن 7 محرم 1448ھ کبھی وقت بولتا نہیں، بس اپنے معنی گہرے کر دیتا ہ...
کربلا – چھٹا دن مکمل | کچھ سفر انسان کو اپنے آپ کے قریب لے آتے ہیں | سلسلہ نمبر6
کربلا — چھٹا دن 6 محرم 1448ھ جب خاموشی کے اندر آنے والے وقت کی چاپ سنائی دینے ل...
کربلا – چوتھا دن مکمل | کچھ سفر منزل سے پہلے انسان کو بدل دیتے ہیں | سلسلہ نمبر 4
کربلا — چوتھا دن 4 محرم 1448ھ کچھ راستے منزل سے پہلے امتحان سکھا دیتے ہیں صبح ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن