اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
علیم طاہر اتوار، 17 مئی 2026
👁 6 ❤️ 2
جب اس دل کے دروازے پر اُن ہاتھوں نے دستک دی
یعنی نور ہی نور سراپا اُجیاروں نے دستک دی
خاموشی کا شہر تھا مجھ میں، سنّاٹا سا پھیلا تھا
دل کی بستی لرز گئی جب دیواروں نے دستک دی
تھک کے بیٹھا تھا میں آخر اپنی ہی دیوار کے پاس
اونگھ رہا تھا نیند کے در پر، ارمانوں نے دستک دی
بند کتابِ دل کو میں نے مدت بعد جو کھولا تھا
بھولی بسری ہر تحریر پہ پھر یادوں نے دستک دی
میں اپنے بستر پہ پڑا تھا گہری نیند کے سائے میں
خواب کے در تک آ کر وحشی آوازوں نے دستک دی
دل میرا معصوم تھا اتنا، کھول پڑا دروازے کو
اپنے ہنستے چہروں سے جب مکاروں نے دستک دی
ہر امید ہوئی تھی روشن، سائے سارے بھاگ اٹھے
خواب دریچے بند ہوئے جب زرداروں نے دستک دی
میں بھی میں تھا، ہاتھ اٹھا کر رب سے خدائی مانگ لیا
مجھ کو مسیحا جان کے در پر دیوانوں نے دستک دی
طاہرؔ راکھ تلے سینے میں اک چنگاری زندہ تھی
وقت کی پرتیں ہٹا ہٹا کر انگاروں نے دستک دی
← پچھلا اگلا →

✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف

📍 مالیگاؤں

علیم طاہر _شاعر و ادیب

غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

علیم طاہر کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے مرے وجود سے ...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد دھڑکن‌دھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس مجھ کو تیرے سنگ چ...
ڈراما نگار: علیم طاہر کردار: بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ) سلمان (بابا جان کا پوتا، 20...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ تحریر (رائٹر) : علیم طاہر کردار: رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے د...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن