کوثر پروین کوثر حقیقی عشق اور تصوف کی شاعرہ
کوثر پروین کوثر حقیقی عشق اور تصوف کی شاعرہ
علیم طاہر
اردو شاعری کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو محض مرد شعرا حضرات ہی کے نام صف اول میں دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن شاعری تو وجدان کا نام ہے۔
اور وجدان خداوندی محض مرد تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ خواتین بھی اس وجدانی کیفیت سے سرفراز ہوئی ہیں۔
چونکہ ہمارا سماج مرد کی حکومت کے زیر اثر رہا ہے۔
جہاں خواتین کا وجود محض صفتِ خاتون سے پرے تصور نہیں کیا جاتا۔
جہاں احمد بیگم نامی شاعرہ کا ان کے شوہر کے ذریعے دیوان جلا دیا گیا ۔مگر عہد ماضی قریب اور عہد حاضر کے ، سماج میں خواتین شاعرات کا وجود، مرد شعراء حضرات کے شانہ بشانہ نظر آتا ہے۔
جہاں خواتین شاعرات اپنے احساسات ، نظریات اور اپنے خیالات کا بلا جھجک اظہار کرتی ہیں۔
ایسی ہی شاعرات کی فہرست میں ایک بے حد نمایاں نام *محترمہ کوثر پروین کوثر* کا ہے.
جو شاعری کے اوزان و بحور سے واقف، ایک ایسی اچھی شاعرہ ہے جن کو شعری حوالے سے اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کا فن بخوبی آتا ہے۔
ان کی شاعری کے عمیق تجزیے سے جو خصوصیات روشن ہوتی ہیں ان میں ترتیب الفاظ، ردیف و قوافی کا سلیقہ مند اہتمام، فکری، وجدانی، جذباتی و حسی کیفیت، صوفیانہ رنگوں کا تخیلاتی وسیع کینواس عشقیہ احساسات سے منسلک خارجی وداخلی خصوصیات،
داستانِ کشمکش، آہنگ جمالیات ، روایتی و انفرادی تصورات، مفکرانہ و فنکارانہ امتزاج، حقیقی رنگ کے ساتھ، عشقیہ قدیم حیثیت، فلسفیانہ نظریات، امید بخش و تصورات، عبقری تجربات، کی دلکش پیشکش، عشق اور تصوف کی پاکیزہ امیجری، بالخصوص نمایاں ہیں۔
کوثر پروین کوثر کی شاعری نئی عورت کو سمجھنے یا جاننے میں معاون کردار نبھاتی ہے ۔ جو نیکی ،خدمت، اخلاق، جدوجہد، اور حقیقی عشق، کا مقدس درس دیتی ہے۔
جس میں تجربے کا کھراپن چمچماتا ہوا صاف دیکھا جا سکتا ہے ۔
✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف
علیم طاہر _شاعر و ادیب



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!