غزل
علیم طاہر
اتوار، 17 مئی 2026
👁 9
❤️ 3
یوں ٹوٹے باندھ ضبط کے سیلابِ ہو گئے
قصبے مرے خوابوں کے تہہ آب ہو گئے
کل تک جو قلاباز، فلک دوش تھے كبھی
گہری انا کی جھیل میں غرقاب ہو گئے
خواہش نے ہر اِک خواب کو روپوش کر لیا
تب سے تمام خواب ہی نایاب ہو گئے
پھر یوں ہوا لالچ بھی ترقی سے جُڑ گئ
جو لمحے پُرسکون تھے بیتاب ہو گئے
اِک روز تنہا کمرے میں اتری جو تری یاد
جگنو ارادے جتنے تھے ، مہتاب ہو گئے
دل میرا تجھے سوچ کے اب بول پڑا ہے
طاہر تمام لفظ ہی شاداب ہو گئے
✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف
📍 مالیگاؤں
علیم طاہر _شاعر و ادیب
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
علیم طاہر کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے
جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے
مرے وجود سے ...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد
دھڑکندھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس
مجھ کو تیرے سنگ چ...
ڈراما نگار: علیم طاہر
کردار:
بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ)
سلمان (بابا جان کا پوتا، 20...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ
تحریر (رائٹر) : علیم طاہر
کردار:
رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے د...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!