اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
علیم طاہرؔ اتوار، 17 مئی 2026
👁 60 ❤️ 3
یہ اشک بہتے ہیں، بہنے دو، اور بہہ جائیں
ستم ہزار کرو ہنس کے ہم تو سہہ جائیں
مہیا آج ہوئے ہو جو بعد مدت کے
ملا ہے موقع تو ہم دل کی بات کہہ جائیں
محبتوں میں تقابل سے باز آؤ تم
ہمارے خواب گھروندے نہ پل میں ڈھہ جائیں
دباؤ ان پر ذرا سا بھی ہم نہ ڈالیں گے
وہ تنہا رہتے ہیں، مرضی ہے ان کی رہ جائیں
ندی چڑھی ہے ابھی، احتیاط لازم ہے
بہاؤ تیز ہے، سنبھلو کہیں نہ بہہ جائیں
یہ نرم مخملی بستر بدن سے دور رکھو
تمہارے خواب کہیں نیند میں نہ رہ جائیں
ہم ایسے خواب نہیں چاہتے کبھی طاہر
جو خواب سارے کنارے پہ آ کے بہہ جائیں
📖 خلاصہ

یہ نرم احساسات، محبت اور زندگی کے تجربات سے بھرپور غزل علیم طاہر کی حساس طبیعت اور فکری پختگی کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے محبت، جدائی، صبر اور انسانی جذبات کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں پیش ک…

← پچھلا اگلا →
علیم طاہرؔ کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے مرے وجود سے ...
تھلاپتی وجے: فلمی دنیا سے عوامی قیادت تک ایک غیر معمولی سفر __________ سپر اسٹار سے سیاسی رہنما تک...
مصنف: علیم طاہر --- فہرستِ مضامین: 1. پیش لفظ 2. افسانچہ کیا ہے؟ (تعریف و اہمیت) 3. ا...
"عورت کچے کان کی" معروف ادیب علیم طاہرؔ کی ایک فکر انگیز تحریر ہے جو معاشرے میں عورت کے کر...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن