غزل
علیم طاہر
اتوار، 17 مئی 2026
👁 15
❤️ 1
را وجودلگ رہا ہے مجھ کو ایک خواب سا
حسین رخ چمک اٹھا طلوعِ آفتاب سا
بکھر رہے ہیں رنگ کیا کہ کون آگیا ہے یہ
فضا فضا مہک اٹھی وجود ہے گلاب سا
قدم بھی ڈگمگائے ہیں ٹھکانے ہوش آ ئے ہیں
ملی جو آنکھ ،آنکھ سے نشہ ہوا شراب سا
جہاں کو کیا منانا ہے، ترا مرا فسانہ ہے
کہانیوں میں عشق کی، ہے خفیہ ایک باب سا
لہو میں عشق رنگ ہیں زمانہ کتنا دنگ ہے
تمہا رے روم روم میں نکھر گیا شباب سا
یہ سرخ رنگ چھا گیا شباب اور آ گیا
حیا جو رخ پہ آ گئی پلک پلک حجاب سا
جو آگئے ہو روبرو ،اڑا ہے ہوش چار سو
عجیب دھڑکنوں میں یہ ہوا ہے انقلاب سا
یہ عشق وشق میں ابھی بکھر رہی ہے زندگی
جواب بھی سوال سا، سوال بھی جواب سا
✍️ علیم طاہر — مختصر تعارف
📍 مالیگاؤں
علیم طاہر _شاعر و ادیب
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
علیم طاہر کی مزید
نہ خود کا میں ہوں نہ کچھ اور میرے بس میں ہے
جہاں میں جو بھی ہے سب تیری دسترس میں ہے
مرے وجود سے ...
لوبانوں سی خوشبو جیسی مہکے تیری یاد
دھڑکندھڑکن سلگ رہا ہے مدھم سااحساس
مجھ کو تیرے سنگ چ...
ڈراما نگار: علیم طاہر
کردار:
بابا جان (ریٹائرڈ ریلوے گارڈ، 75 سالہ)
سلمان (بابا جان کا پوتا، 20...
اسٹیج ڈرامہ: آخری سکہ
تحریر (رائٹر) : علیم طاہر
کردار:
رفیق – مرکزی کردار، عام سا نوجوان جس کے د...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!